پاسپورٹ کو شہریت کا ثبوت قرار دینے کا مطالبہ، دہلی ہائی کورٹ نے خارج کر دی مفاد عامہ کی عرضی

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ ’’یہ دیکھ کر خوشی ہے کہ آپ کو ہمارے اختیارات پر اتنا بھروسہ ہے، لیکن ہمیں ایسی غلط فہمی نہیں ہے کہ ہمارے پاس اس طرح کی عرضیوں کو قبول کرنے کا اختیار ہے۔‘‘

ہندوستانی پاسپورٹ
i

دہلی ہائی کورٹ نے بدھ (22 جولائی) کو ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) خارج کر دی، جس میں مرکزی حکومت کو تعلیم کے حق کے تحفظ کو یقینی بنانے، پاسپورٹ کو شہریت کا ثبوت قرار دینے، پرامن احتجاج کے حق کی حفاظت کرنے اور اظہار رائے کی مکمل آزادی کو یقینی بنانے جیسے کئی بڑے احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ معاملے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے چیف جسسٹس ڈی کے اپادھیائے نے عرضی گزار سے کہا کہ ’’عدالت کے دائرہ اختیار کو لے کر انہیں غلط فہمی ہے۔‘‘

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ ’’یہ دیکھ کر خوشی ہے کہ آپ کو ہمارے اختیارات پر اتنا بھروسہ ہے، لیکن ہمیں ایسی غلط فہمی نہیں ہے کہ ہمارے پاس اس طرح کی عرضیوں کو قبول کرنے کا اختیار ہے۔‘‘ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ صرف کسی مخصوص اور ٹھوس تنازعہ پر ہی حکم دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ہر موضوع پر ایک ساتھ عمومی اور جامع احکامات جاری نہیں کر سکتے۔‘‘


معاملے کی سماعت کے دوران عرضی گزار نے عدالت سے پوچھا کہ آخر کورٹ کیا کر سکتا ہے؟ اس پر مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) نے کہا کہ پہلے یہ بتانا ہوگا کہ عرضی گزار کی ذاتی شکایت کیا ہے۔ اے ایس جی نے کہا کہ ’’آپ جن اختیارات کی بات کر رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر پہلے ہی آئین میں موجود ہیں۔ پہلے یہ بتائیے کہ آپ کا اصل مطالبہ اور ذاتی شکایت کیا ہے؟‘‘ قابل ذکر ہے کہ عدالت نے پایا کہ عرضی میں کسی ٹھوس قانونی تنازعہ یا ذاتی حق کی خلاف ورزی کا واضح بنیاد نہیں بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے عرضی خارج کر دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔