ہندوستانی پاسپورٹ کی اصل اہمیت...آشیش رائے
سوال یہ ہے کہ غیر ملکی دوروں اور سفارتی سرگرمیوں کے باوجود ہندوستان نے کیا حاصل کیا؟ اگر پاسپورٹ کی عالمی حیثیت کمزور اور جمہوری ساکھ سوالوں کی زد میں ہو تو تشہیر سفارتی کامیابی کا متبادل نہیں بن سکتی

وزارتِ خارجہ ابھی تک یہ طے کرنے کی کوشش ہی کر رہی ہے کہ ہندوستانی پاسپورٹ دراصل ہے کیا اور کیا نہیں، اور آیا یہ ہندوستانی شہریت کا ثبوت ہے یا نہیں۔ اسی دوران جولائی کے اوائل میں جاری ہونے والے گلوبل پاسپورٹ انڈیکس (جی پی آئی) 2026 میں 197 ممالک کی فہرست میں ہندوستان کو 125ویں مقام پر پایا گیا۔ کسی بھی زاویے سے یہ تصویر حوصلہ افزا نہیں کہی جا سکتی، خصوصاً اس ملک کے لیے جو خود کو ’وشو گرو‘ (عالمی رہنما) قرار دیتا ہے اور جس کے وزیر اعظم نریندر مودی 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک 100 سے زائد غیر ملکی دورے کر چکے ہیں، جو کسی بھی ہندوستانی وزیر اعظم کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے برعکس، جو پاسپورٹ کی درجہ بندی اس بنیاد پر کرتا ہے کہ اس کا حامل کتنے ممالک میں بغیر ویزا سفر کر سکتا ہے، جی پی آئی ایک اسکورنگ سسٹم استعمال کرتا ہے۔ لندن میں قائم شہریت سے متعلق مشاورتی ادارہ ’’گلوبل سٹیزن سلوشنز‘‘ اسے جاری کرتا ہے۔ یہ پاسپورٹ کی مضبوطی کو تین پیمانوں پر پرکھتا ہے: عالمی نقل و حرکت یا بغیر ویزا سفر (50 فیصد وزن)، کسی ملک کی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار حیثیت، جس میں ٹیکس نظام اور کاروباری ماحول شامل ہیں (25 فیصد)، اور معیارِ زندگی، شخصی آزادی اور عالمی ساکھ (25 فیصد)۔
مئی 2026 کے وسط میں وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے پیشِ نظر ہندوستانیوں سے بیرونِ ملک سفر نہ کرنے کی اپیل کی تھی، کیونکہ ملک مختلف معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا تھا۔ ممکن ہے انہیں تیل کے محدود ذخائر اور کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر کی فکر رہی ہو۔ ان خدشات کو یکسر غلط نہیں کہا جا سکتا، لیکن شہریوں کے لیے، چاہے وہ پاسپورٹ رکھتے ہوں یا نہیں، جو ’کیا نہ کریں‘ کی فہرست جاری کی گئی، وہ مضحکہ خیز ضرور تھی۔
سادگی کا درس دینے کے کچھ ہی عرصے بعد وزیر اعظم خود ایک بار پھر غیر ملکی دوروں پر روانہ ہو گئے۔ دہلی شدید گرمی کی لپیٹ میں تھا اور وہ یورپ کے نسبتاً سرد علاقوں میں موجود تھے، لیکن وہاں ان کے لیے ایک مختلف قسم کی ’گرمی‘ منتظر تھی۔ نیدرلینڈ میں وہاں کے وزیر اعظم روب جیٹن نے ہندوستان میں پریس کی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے کمزور پڑتے ہوئے حالات پر تشویش ظاہر کی، جبکہ ناروے میں صحافی ہیلے لِنگ سوینڈسن نے سوال کیا کہ وہ میڈیا کے سوالات سے گریز کیوں کرتے ہیں؟
ایک پریس کانفرنس کے دوران لِنگ نے ایک ہندوستانی سفارت کار سے پوچھا، ’’ہم آپ (ہندوستان) پر کیوں اعتماد کریں؟ کیا آپ اپنے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوا سکتے ہیں؟‘‘ اس سوال کا جواب دینے میں وزارتِ خارجہ کے سکریٹری (مغرب) سیبی جارج الجھ گئے اور سوشل میڈیا پر طنز و تمسخر کا نشانہ بنے۔
صحافیوں کے براہِ راست سوالات کا سامنا نہ کر پانا نریندر مودی کی ایسی کمزوری بن چکی ہے جو ایک بڑے مسئلے اور قومی شرمندگی کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ وہ مترجم کی مدد لینے یا ہندی زبان میں جواب دینے پر بھی آمادہ نہیں ہوتے، حالانکہ وہ ہندی میں روانی سے گفتگو کرتے ہیں اور ان کی حکومت یہی چاہتی ہے کہ تمام ہندوستانی بلا چوں و چرا اسے اختیار کریں۔
اگرچہ ہندوستان کا تابع اور احسان مند مرکزی دھارے کا میڈیا سرکاری ہدایات، طے شدہ بیانات اور سوشل میڈیا ہینڈلز سے فراہم کردہ مواد پر اطمینان کر لیتا ہے، لیکن زندہ اور متحرک جمہوریتوں کا میڈیا مودی کے سوالات سے بچنے کے رویے پر مسلسل سوال اٹھا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ہندوستان میں شہری آزادیوں اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتے حملوں سے متعلق خدشات کو عالمی برادری بخوبی سمجھنے لگی ہے۔
غیر ملکی حکومتوں کا یہ تاثر ہے کہ نریندر مودی کو بین الاقوامی معاملات کی زمینی حقیقتوں کا خاطر خواہ ادراک نہیں۔ ان کے نزدیک وہ محض تشہیر کے خواہش مند ہیں اور ان کی انا کی تسکین کے ذریعے ہندوستان سے مختلف رعایتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
نیدرلینڈ اور ناروے کے مشکل دوروں کے بعد جب مودی اٹلی پہنچے تو وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وہ انہیں روم کی سیر کے لیے لے گئیں، کولوسیم میں عشائیہ دیا، ان کے ساتھ سیلفیاں لیں اور انہیں ہندوستانی ٹافی ’’میلوڈی‘‘ پیش کی، جسے انہوں نے مزاحاً ’میلونی اور مودی‘ کے امتزاج سے تعبیر کیا۔
اور پھر ایک اور دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ایک ماہ بعد فرانس میں منعقدہ جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران جب مودی اور میلونی کی ملاقات ہوئی تو مودی اس بات کا ذکر کیے بغیر نہ رہ سکے کہ انسٹاگرام پر ان کی مشترکہ تصاویر ’’وائرل‘‘ ہو گئی تھیں۔ شاید یہی ان کے نزدیک سفارت کاری کی بنیادی سمجھ ہے!
وزیر اعظم نریندر مودی کو بین الاقوامی اعزازات سمیٹنے کا بھی خاص شوق ہے، جس پر غیر ملکی میڈیا کی گہری نظر رہتی ہے۔ جون کے اواخر میں جب وہ سرکاری دورے پر سیشلز پہنچے اور وہاں ’’گارڈین آف دی بلیو ہورائزن‘‘ نامی نیا اعزاز حاصل کیا تو برطانوی اخبار گارڈین نے سرخی لگائی: ’’انہیں کوئی بھی ایوارڈ دے دیجیے، وہ اسے لینے کے لیے دوڑے چلے آئیں گے۔‘‘
رپورٹ میں لکھا گیا کہ اس ایوارڈ کا اجرا مودی کے دورے سے محض تین دن قبل کیا گیا تھا اور اسے حاصل کرنے والے وہ پہلے اور واحد شخصیت تھے۔ عجلت میں تیار کیے گئے سرٹیفکیٹ میں Republic کی ہجے غلط لکھ کر Repubblic اور Seychelles کی ہجے Seycheeles درج کر دی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق معاملہ اس وقت مزید دلچسپ ہو گیا جب سافٹ ویئر کے ذریعے جانچ میں معلوم ہوا کہ یہ سرٹیفکیٹ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ شرمندہ سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے وضاحت پیش کی کہ غلطی سے ’ورکنگ ڈرافٹ‘ یعنی ابتدائی مسودہ جاری ہو گیا تھا اور اب ’اصل اور باضابطہ طور پر منظور شدہ‘ نسخہ جاری کر دیا گیا ہے۔ ہمارے وسیع القلب وزیر اعظم نے بھی اسے فخر کے ساتھ قبول کر لیا۔
ملکی سربراہان کی ملاقاتوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے کم کر کے دیکھنا چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران اپنی مسلسل غیر ملکی سفارت کاری کے نتیجے میں مودی نے ایسی کون سی بڑی کامیابی حاصل کی ہے جو کوئی ہندوستانی سفیر، ہائی کمشنر یا وزیر خارجہ حاصل نہیں کر سکتا تھا؟ جو وزیر اعظم اپنے شہریوں کو سادگی اور کفایت شعاری کا درس دیتے ہوں، وہ بیرونِ ملک تصویری نشستوں اور تشہیری سرگرمیوں پر ٹیکس دہندگان کے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے معاملے میں اتنے بے فکر کیسے ہو سکتے ہیں؟
ان کے غیر ملکی دوروں میں ٹھوس نتائج اور حقیقی سفارتی اہمیت کا فقدان صاف نظر آتا ہے۔ جب بھی انہوں نے ہندوستان کی ان آزمودہ خارجہ پالیسیوں سے ہٹ کر قدم اٹھایا، جن کی بنیاد وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے رکھی تھی اور جن میں بعد از سرد جنگ حالات کے مطابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے بعض تبدیلیاں کی تھیں، نتائج حوصلہ افزا نہیں رہے۔ واشنگٹن سے کسی ٹھوس ضمانت کے بغیر ’’ملٹی الائنمنٹ‘‘ یعنی متعدد ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کی پالیسی کو پسِ پشت ڈال کر امریکہ کے حد سے زیادہ قریب جانا اور عین نامناسب وقت پر اسرائیل کے ساتھ غیر معمولی قربت کا اظہار کرنا، ہندوستان کے لیے کوئی نمایاں فائدہ ثابت نہیں ہوا۔
گزشتہ سال پاکستان کے خلاف کیے گئے ’’آپریشن سندور‘‘ کی حمایت اسرائیل کے علاوہ کسی ملک نے نہیں کی۔ اس کے برعکس پاکستان کو چین، ترکی اور آذربائیجان کی فعال حمایت حاصل رہی، جبکہ سعودی عرب بھی اس کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔ یہی سعودی عرب، جس کے ولی عہد کے ساتھ مودی نے خصوصی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی تھی اور جس نے اب پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔
اس کے بعد مودی نے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے کیے۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں انہیں انڈونیشیا کی آزادی میں جواہر لعل نہرو کے کردار کو تسلیم کرنا پڑا اور انڈونیشیائی صدر کی جانب سے نہرو کی خدمات کی تعریف بھی سننی پڑی، جن میں نہ صرف انڈونیشیا کی آزادی کے لیے ان کی حمایت بلکہ تحریکِ عدم وابستگی کے بانی کے طور پر ان کا کردار بھی شامل تھا۔
آسٹریلیا میں انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آسٹریلوی حکومت سے اپیل کی کہ وہ دو طرفہ مذاکرات کے دوران ہندوستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا معاملہ اٹھائے، جبکہ الائنس اگینسٹ اسلاموفوبیا نے مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف ’شدت پسندی اور ظلم و ستم‘‘ کے خلاف احتجاج کیا۔ آسٹریلیا کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی نیوز سروس 7 نیوز کے ایک رپورٹر نے، جب مودی ان کے پیچھے چند قدم کے فاصلے پر چل رہے تھے، کیمرے کے سامنے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’میلبورن کے دورے کے دوران آپ مودی کے اتنے ہی قریب پہنچ سکتے ہیں۔ وہ عموماً بغیر اسکرپٹ والی پریس کانفرنسوں سے گریز کرتے ہیں اور پہلے سے طے شدہ تقریبات میں شرکت کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘
ویسے، آسٹریلیا کی جانب سے ہندوستان کو یورینیم فراہم کرنے پر آمادگی کے اعلان میں کوئی نئی بات نہیں تھی، بلکہ یہ ’پرانی شراب نئی بوتل میں‘ پیش کرنے کے مترادف تھا۔ کینبرا نے اس فیصلے کا اعلان 2011 ہی میں کر دیا تھا، جب ڈاکٹر منموہن سنگھ ہندوستان کے وزیر اعظم تھے۔
نیوزی لینڈ کے نیوز پلیٹ فارم اسٹف نے انکشاف کیا کہ مودی کی پیشگی سکیورٹی اور لاجسٹکس ٹیم نے منتظمین سے درخواست کی تھی کہ دورے کے دوران ان کے ’’قیلولے کے وقت‘‘ کا خیال رکھا جائے اور ایسی جگہوں کا انتخاب کیا جائے جہاں سیڑھیاں نہ ہوں۔ اگر اس معاملے کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو بھی ہمیں وزارتِ خارجہ کے سکریٹری (مشرق) رودریندر ٹنڈن کے بیان سے یہ معلوم ہوا کہ مودی پریس کانفرنسیں کیوں نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ’’روایتی ہندوستانی سیاست دان‘‘ ہیں، جنہوں نے ’’اپنے ووٹروں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
