وقف قانون کے خلاف بی جے پی لیڈر کی عرضی، دہلی ہائی کورٹ کا مرکز سے جواب طلب

اس معاملہ میں وزارت برائے اقلیتی امور، وزارت قانون اور ہندوستان کے لا کمیشن سے نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا گیا ہے۔ بنچ نے معاملہ کی آئندہ سماعت کے لئے 28 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز وقف قانون 1995 کے التزامات کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر مرکز سے جواب طلب کیا اور اسے واضح طور پر منمانا اور غیر منطقی قرار دیا۔ کارگزار چیف جسٹس وپن سانگھی اور جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی والی بنچ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے کی دائر کی گئی مفاد عاملہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر سماعت کر رہی تھی۔ اس معاملہ میں وزارت برائے اقلیتی امور، وزارت قانون اور ہندوستان کے لا کمیشن سے نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا گیا ہے۔ بنچ نے معاملہ کی آئندہ سماعت کے لئے 28 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔

عرضی گزار اشونی اپادھیائے نے وقف قانون کی دفعات 4، 5، 6، 7، 8، 9 اور 14 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ یہ التزامات ٹرسٹ، مٹھوں، اکھاڑوں، کمیٹیوں کو یکساں درجہ فراہم کرنے سے محروم وقف املاک کو خصوصی درجہ فراہم کرتے ہیں۔ وقف بورڈ کو کسی بھی جائیداد کو وقف پراپرٹی کے طور پر درج کرنے کا اختیار حاصل ہے۔


عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہندوؤں، جینوں، بودھ، سکھ، عیسائی اور پارسیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس سے آئینی دفعات 14-15 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست چار لاکھ مندروں سے تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے جمع کرتے ہیں، لیکن ہندوؤں کے لئے ایسا کوئی التزام نہیں ہے۔ اس طرح وقف قانون آئین کی دفعہ 27 کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔