دہلی: 106 سالہ مختار احمد نے کورونا کو دی شکست، 1918 میں اسپینش فلو کا بھی نہیں ہوا تھا اثر

اسپتال سے گھر لوٹنے کے بعد مختار احمد نے کہا کہ "میں نے امید نہیں کی تھی کہ میں بچوں گا، لیکن صحیح علاج کی وجہ سے اب میں صحت مند ہوں۔" مختار احمد کے اہل خانہ بھی ان کی گھر واپسی سے کافی خوش ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کووڈ-19 سے خوف زدہ ہندوستان میں ایک 106 سالہ شخص نے کورونا کو شکست دے کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ دہلی کے رہنے والے اس شخص کا نام مختار احمد ہے جو کورونا پازیٹو پائے جانے کے بعد اسپتال میں داخل کرائے گئے تھے اور مناسب علاج کے ساتھ ساتھ صحیح دیکھ بھال نے انھیں ایک بار پھر اپنی فیملی کے ساتھ رہنے کا موقع میسر کر دیا۔ ضعیفوں پر کورونا کے مضر اثرات کی خبروں کے درمیان اس مرض پر مختار احمد کی فتح نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اللہ جس کو چاہے طویل عمر عطا کرتا ہے اور کوئی بھی مہلک بیماری اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔

اس وقت دہلی میں کورونا انفیکشن کا اثر بہت زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور روزانہ کئی افراد کی موت ہو رہی ہے۔ ایسے میں 106 سالہ مختار احمد کی اسپتال سے گھر واپسی یقیناً ایک بڑی خوشخبری کی طرح ہے۔ گھر لوٹنے کے بعد مختار احمد نے خود میڈیا سے کہا کہ "میں نے امید نہیں کی تھی کہ میں بچوں گا لیکن صحیح علاج کی وجہ سے اب میں صحت مند ہوں۔" مختار احمد کے گھر والے بھی ان کی گھر واپسی سے کافی خوش ہیں۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بالکل ناامید ہو چکے تھے کیونکہ کورونا ضعیفوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے اور 106 سال کی عمر میں اس وائرس کو شکست دینا خوش آئند ہے۔ گھر والے خدا کا بار بار شکر ادا کرتے ہیں کہ مختار احمد کورونا انفیکشن سے جنگ جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ مختار احمد نے صرف کورونا وبا کا ہی دور نہیں دیکھا ہے بلکہ 1918 میں اسپینش فلو کے دور کو بھی دیکھا ہے۔ ان کے اہل خانہ بتاتے ہیں کہ جب اسپینش فلو نے قہر برپا کیا تھا تو وہ صرف 4 سال کے تھے۔ لیکن مختار احمد کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کورونا جیسی وبا نہیں دیکھی۔ 106 سالہ عمر میں کورونا سب سے خطرناک بیماری ہے جس کا انھوں نے سامنا کیا۔

next