دہلی اسمبلی کا 5 روزہ سرمائی اجلاس بی جے پی-عآپ کی نورا کشتی کی نذر، ’عوام کے ٹیکس‘ کا پیسہ ہوا برباد: انل بھاردواج
انل بھاردواج نے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ رین بسیروں کی خستہ حالت کا از خود نوٹس لینا اور افسران کو رین بسیروں میں رات گزارنے کے لیے کہنا دہلی کی بی جے پی حکومت کے لیے شرمناک ہے۔

نئی دہلی: ’’دہلی اسمبلی کے 5 روزہ سرمائی اجلاس میں صرف دہلی کی عوام کے پیسے برباد ہوئے ہیں، کیونکہ ایوان میں عوام سے متعلق اور ان کے فلاح سے جڑے ایشوز پر بحث ہوئی ہی نہیں۔ اس کی جگہ پورے وقت ہنگامہ اور احتجاجی مظاہرے ہوتے نظر آئے۔ بی جے پی اور عآپ کی اس نورا کشتی کو دیکھ کر دہلی کی عوام بھی سمجھ چکی ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف ہنگامہ کر کے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی خامیوں اور بدعنوانی کو دبانے کا کام کر رہی ہیں۔‘‘ یہ بیان آج دہلی کانگریس کمیونکیشن ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور سابق رکن اسمبلی انل بھاردواج نے دہلی کانگریس کمیٹی کے دفتر ’راجیو بھون‘ میں منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
انل بھاردواج نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے دہلی انتخابات میں جمنا کی صفائی، آلودگی سے پاک ماحول، صاف شفاف پینے کا پانی، مضبوط نظامِ قانون، بدعنوانی سے پاک دہلی سمیت غریبوں اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود اور سہولتیں فراہم کرنے کے بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ ریکھا گپتا حکومت کے پہلے سال کے تمام اجلاس ختم ہونے کے بعد جو حالات سامنے آئے ہیں، وہ بالکل ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے پچھلی عام آدمی پارٹی کی حکومت کے دوران تھے۔ یعنی عوام سے جھوٹے وعدے اور اعلانات کرتے رہو اور زمینی سطح پر کچھ نہ کرو۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے دوران بدانتظامی اور بدعنوانی کا اب نیا دور چل رہا ہے۔ دہلی اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کی ایوان اور سڑک پر نورا کشتی اور احتجاج سے دونوں پارٹیوں کی عوام کے تئیں بے حسی بھی بے نقاب ہو گئی۔
انل بھاردواج نے کہا کہ سیاحت کے وزیر کپل مشرا کا فروری میں جمنا ندی میں کروز چلانے کا بیان پوری طرح گمراہ کن ہے، تاکہ عوام گندے نالوں، سیور اور صنعتی کچرے کا بوجھ ڈھو رہی میلی اور آلودہ جمنا کی بات نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت میں جمنا میں پانی کا بہاؤ اس سطح پر ہے ہی نہیں کہ دریا میں کروز چل سکیں۔ جمنا میں حد سے زیادہ گاد اور بدبودار پانی ہے، اس میں کروز پر سوار لوگوں کے بدبو دار اور زہریلے آلودہ پانی سے متاثر ہونے کا خطرہ ہوگا۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ نالوں کا گندا پانی بغیر کسی صفائی کے سیدھا جمنا میں ڈالا جا رہا ہے، کیونکہ سیوریج ٹریٹمنٹ کے زیادہ تر پلانٹس پوری صلاحیت کے ساتھ کام ہی نہیں کرتے۔ مرکزی پولیوشن کنٹرول کمیٹی کے مطابق جمنا کا پانی پینے تو کیا، نہانے کے لیے بھی موزوں نہیں پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمنا کی صفائی کے لیے اس وقت 680 کروڑ روپے کے فنڈ کی منظوری کے باوجود بی جے پی کی حکومت جمنا کی صفائی میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔
انل بھاردواج نے کہا کہ سرمائی اجلاس میں جمنا کی صفائی اور آبی آلودگی، سی اے جی رپورٹ سمیت عوام کے مفاد سے متعلق مسائل کے ایجنڈے پر ایوان میں کوئی بحث نہیں ہوئی۔ ٹرپل انجن کی حکومت ہونے کے باوجود آلودگی پر قابو پانے کے معاملے میں حکومت اے کیو آئی کے اعداد و شمار سنبھالنے میں لگی ہوئی ہے، جبکہ جنوری کی شدید سردی میں خطرناک زہریلی ہوا عوام کی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ حکومت عوام کے تئیں بالکل بھی حساس نہیں ہے۔
انل بھاردواج کا کہنا ہے کہ 4 سے 5 ڈگری کے کم از کم درجۂ حرارت میں رین بسیرے کی حالت خستہ ہو رہی ہے۔ انتظام و انصرام کی حالت اتنی خراب ہے کہ لوگ کھلے آسمان کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں اور سردی سے مرنے والوں کے اعداد و شمار بھی حکومت چھپا رہی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے راجدھانی میں اسپتالوں کے باہر سرد راتیں گزار رہے مریضوں کے تیمارداروں کی دگرگوں حالت پر کہا کہ افسران رین بسیرے میں ایک رات گزار کر دکھائیں۔ یہ جملہ بی جے پی حکومت کے لیے شرمناک ہے۔
انل بھاردواج نے کہا کہ راجدھانی میں نظامِ قانون پوری طرح تباہ ہو چکا ہے، جہاں روزانہ خواتین کے خلاف جرائم، قتل، چین اسنیچنگ اور ڈکیتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ دہلی میں سائبر فراڈ اب نئے زمانے کی ڈکیتی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں سائبر مجرموں نے دہلی والوں کی محنت کی کمائی پر تقریباً 1200 کروڑ روپے کا ڈاکہ ڈالا ہے۔ حکومت کو جواب دینا چاہیے کہ کتنے سائبر مجرموں کے خلاف کارروائی ہوئی اور کتنے لوگوں کی رقم واپس دلائی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی میں بڑھتا ہوا نشے کا کاروبار اس حد تک پھیل چکا ہے کہ دہلی نشے کی راجدھانی بن گئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔