شاہین باغ اور جے این یو سے کیوں دوری اختیار کیے ہے ’ عام آدمی پارٹی‘: کانگریس

دہلی میں انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہے اور تینوں بڑی پارٹیوں نے اپنے مخالفین کے خلاف حملوں میں بھی تیزی پیدا کر دی ہے۔ الزامات لگانے کا سلسلہ بھی تیز ہو چکا ہے۔

وزیر اعلی دہلی اروند کیجریوال کی فائل تصویر 
وزیر اعلی دہلی اروند کیجریوال کی فائل تصویر
user

قومی آوازبیورو

کوئی کہہ رہا ہے کہ 8 تاریخ کو دہلی میں ’ہندوستان بنام پاکستان‘ مقابلہ ہوگا، تو کوئی کہہ رہا ہے کہ مفت وائی فائی ڈھونڈتے ڈھونڈتے فون کی بیٹری ختم ہو گئی، کوئی یہ کہتا ہوا نظر آ رہا ہے کہ کم از کم انتخابات میں اسکول اور ہسپتال کی تو بات ہو رہی ہے۔ جیسے جیسے 8 فروری قریب آ رہی ہے ویسے ویسے انتخابی سرگرمیاں اور ایک دوسرے کے اوپر حملوں میں بھی تیزی آتی جار ہی ہے۔ جمعرات کو وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کی کیجریوال حکومت پر جم کر حملے کئے۔ شاہ نے کہا کہ پورے راستے مفت وائی فائی ڈھونڈتا رہا لیکن وائی فائی تو نہیں ملا، فون کی بیٹری اور ختم ہو گئی۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے جواب میں کہا ’’ہم نے مفت وائی فائی کے ساتھ مفت بیٹری چارجنگ کا بھی انتظام کیا ہے۔ دہلی میں 200 یونٹ تک بجلی مفت ہے۔‘‘

عام آدمی پارٹی کے اوپر جہاں ٹکٹ فروخت کرنے کے الزام لگ رہے ہیں جس میں ان کی پارٹی کے ہی رکن اسمبلی این ڈی شرما اور آدرش شاستری کا کہنا ہے کہ پارٹی نے اسمبلی انتخابات کے لئے ٹکٹ بیچے ہیں، وہیں عام آدمی پارٹی سے انتخابی منشور میں کئے گئے ان وعدوں کے بارے میں سوال کئے جا رہے ہیں جو وہ پانچ سال میں پورے نہیں کر پائی۔ بی جے پی اور کانگریس کیجریوال حکومت سے سوال کر رہی ہے کہ جو پانچ سال میں پانچ سو نئے اسکول کھولنے کا وعدہ کیا تھا اس میں سے ایک بھی کیوں نہیں کھولا گیا۔ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں جب اتنی اچھی پڑھائی ہو رہی ہے تو پھر طلباء کی تعداد کیوں کم ہو رہی ہے اور بورڈ امتحانات میں پاس ہونے کی فیصد میں کیوں کمی ہو رہی ہے۔ کانگریس کی راگنی نائک کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ شیلا دکشت حکومت نے جو اسکولوں کی مضبوط بنیاد ڈالی تھی، ان میں رنگ روغن کر کے ان کا رکھ رکھاؤ تو کیا ہے۔ لیکن نئے اسکول کھولے نہیں اور الٹا تعلیم کا معیار خراب کر دیا۔‘‘

بی جے پی یہ الزام لگا رہی ہے کہ محلہ کلینک کے نام پر وزیر ستیندر جین کی بیٹی کو ذمہ داری دینا سیدھی بد عنوانی تھی اور یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اسکولوں کے ایک کمرے پر 20 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ کرنا بھی بدعنوانی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اُدھر عآپ مفت بجلی، پانی اور خواتین کے لئے بس میں مفت سفر کو لے کر عوام کے پاس جا رہی ہے جس پر بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ پیسہ عوام کا ہے اور عوام سے ہی وصول کیا جائے گا۔

کانگریس کا عام آدمی پارٹی سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ ایک خاص طبقہ کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے شاہین باغ، جے این یو اور جامعہ سے خود کو دور رکھ رہی ہے۔ راگنی نائک کا کہنا ہے کہ ’’عام آدمی پارٹی کا جنم ایک تحریک سے ہوا ہے لیکن جب ملک کے آئین کے لئے خواتین سڑکوں پر تحریک چلا رہی ہیں تو وہ اس تحریک سے خود کو کیوں دور دکھا رہی ہے۔ جے این یو میں اتنا تشدد ہوا لیکن عام آدمی پارٹی سب جگہ سے نہ صرف غائب رہی بلکہ اس نے انتخابی فائدوں کی وجہ سے پوری خاموشی بنائی ہوئی ہے۔‘‘

بہر حال، 8 فروری تک یہ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر ایسے ہی الزامات لگاتے رہیں گے اور ہر پارٹی کی یہی کوشش رہے گی کہ عوام ان کے حق میں بٹن دبائے۔اس سب میں بی جے پی کے کپل مشرا نے جو 8 تاریخ کو ’ہندوستان بنام پاکستان مقابلہ‘ کا نام دیا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان کو اس بیان کے لئے نوٹس ضرور جاری کیا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے امیدواروں کو انتخابات کے لئے نا اہل قرار دینا چاہئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next