دہلی اسمبلی الیکشن: سخت سیکورٹی کے درمیان ووٹنگ کا عمل جاری، کچھ مقامات پر EVM خراب

دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مقررہ وقت کے مطابق ٹھیک 8 بجے شروع ہو گیا۔ یمنا وہار اور نئی دہلی کے کچھ پولنگ بوتھوں پر ای وی ایم میں خرابی کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی اسمبلی کی 70 نشستوں کے لئے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ہفتے کی صبح آٹھ بجے پولنگ شروع ہو گئی ۔ پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور شام چھ بجے تک جاری رہے گی ۔ دہلی کے چیف الیکشن افسر ڈاکٹر رنبیر سنگھ نے کہا کہ پولنگ غیر جانبدارانہ اور پرامن طریقے سے منعقد کرنے کے لئے سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ کافی تعداد میں دیگر ملازمین کو تعینات کئے جانے کے ساتھ ہی پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر سنگھ کے مطابق غیر جانبدارانہ پولنگ کے لئے 1000024 ملازمین انتخابی ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے ہیں ۔ سکیورٹی انتظامات میں دہلی پولیس کے 38 ہزار 874 اور ہوم گارڈ کے 19 ہزار جوان تعینات کئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں نیم سکیورٹی فورس کے جوان بھی تعینات کئے گئے ہیں ۔

ووٹنگ کا عمل شروع ہونے کے بعد شاہین باغ علاقہ میں موجود پولنگ بوتھوں پر لوگوں کی زبردست بھیڑ دیکھنے کو ملی۔ لیکن کچھ اسمبلی حلقوں میں ای وی ایم کی خرابی کی وجہ سے ووٹنگ میں رخنہ پیدا ہو گیا ہے۔ علی الصبح یمنا وہار میں سی 10 بلاک پر ای وی ایم میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے ووٹنگ کا عمل شروع نہیں ہو پایا اور نئی دہلی اسمبلی حلقہ کے تحت سردار پٹیل ودیالیہ بوتھ نمبر 114 پر موجود ای وی ایم بھی کام نہیں کر رہا تھا۔

بہر حال، اس مرتبہ کل ایک کروڑ 47 لاکھ 86 ہزار 382 رائے داہندگان ہیں جن میں سے 132 رائے داہند گان 100 یا اس سے زائد عمر کے ہیں ۔ بزرگ رائے داہندگان کو ’وی آئی پی‘ رائے داہندگان کے طور پر ووٹ ڈالنے کی سہولت مہیا کرائی گئی ہے ۔ بزرگ رائے داہندگان میں 68 مرد اور 64 خواتین ہیں ۔ سب سے بزرگ ووٹر گریٹر کیلاش کے چترنجن پارک کی رہنے والی 110 سالہ خاتون كالي تارا منڈل ہیں ۔کل رائے دہندگان میں مردوں کی تعداد 81 لاکھ پانچ ہزار 236 اور خواتین رائے ہندگان کی تعداد 66 لاکھ 80 ہزار 277 ہیں ۔ ٹرانسجنڈر رائے دہندگان 869 ہیں ۔ سبھی رائے دہندگان کو ووٹر شناختی کارڈ جاری کئے گئے ہیں ۔ غیر ملکی مقیم رائے دہندگان کی تعداد 498 اور سروس سے منسلک رائے دہندگان کی تعداد 11 ہزار 608 ہے ۔ 80 برس سے زائد کے رائے دہندگان کی تعداد دو لاکھ چار ہزار 830 ہے ۔ معذور رائے دہندگان 50 ہزار 473 ہیں ۔ وہیل چیئر رائے دہندگان کی تعداد 3875 ہے ۔ معذور رائے دہندگان کو پولنگ میں سہولت کے لئے نو ہزار 997 راضا کار تعینات کئے گئے ہیں ۔

کل رائے دہندگان میں 18 سے 25 سال کی عمر کے 17 لاکھ 34 ہزار 565 رائے دہندگان ہیں جن میں مرد 10 لاکھ 823، خواتین سات لاکھ 33 ہزار 514 اور دیگر 228 ہیں۔ پچیس سے 40 سال کی عمر کے 62 لاکھ 36 ہزار 46 رائے دہندگان میں مرد 3426905 اور خواتین 28 لاکھ نو ہزار 141 ہیں۔ چالیس سے 60 سال کی عمر کے 49 لاکھ 62 ہزار 823 رائے دہندگان میں 27 لاکھ 28 ہزار 303 مرد اور 22 لاکھ 34 ہزار 342 خواتین رائے دہندگان ہیں جبکہ دیگر 178 ہیں۔ ساٹھ سال سے اوپر 18 لاکھ 52 ہزار 948 ووٹروں میں مرد نو لاکھ 49 ہزار 623 اور خواتین نو لاکھ تین ہزار 280 اور دیگر 45 ہیں۔

کل پولنگ مراکز کی تعداد 13570 ہے جو 2688 مقامات پر واقع ہیں ۔ حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 3141 ہے ۔ اخراجات سے منسلک حساس پاکٹ کی تعداد 102 ہے ۔ انتخابات منعقدکرانے کے لئے 34 ہزار 222 بی یو ، 18 ہزار 765 سی یو اور 20 ہزار 385 وی وی پیٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انتخابات میں کل 672 امیدوار ہیں جن میں مرد 593 اور خواتین امیدوار 79 ہیں ۔ تئیس اسمبلی سیٹوں پر کوئی بھی خاتون امیدوار انتخابی میدان میں نہیں ہے ۔ عام آدمی پارٹی (آپ) نے سبھی 70 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 66 اور کانگریس نے بھی اتنی ہی سیٹوں پر امیدوار اتارے ہیں ۔ اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی کا مسٹر نتیش کمار کی قیادت والی پارٹی جنتا دل یونائٹیڈ اور مسٹر چراغ پاسوان کی قیادت والی لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے ساتھ اتحاد ہے۔ کانگریس کا مسٹر لالو پرساد کی قیادت والی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ساتھ اتحاد ہے ۔ محترمہ مایاوتی کی قیادت والی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے 68 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں ۔ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) نے تین تین امیدوار اتارے ہیں ۔ مسٹر شرد پوار کی قیادت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) پانچ سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے ۔ رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے 243 اور 148 آزاد امیدوار ہیں۔

سب سے کم رائے دہندگان چاندنی چوک میں ایک لاکھ 25 ہزار 684 اور سب سے زیادہ مٹیالا میں چار لاکھ 23 ہزار 682 ہیں ۔ سب سے کم علاقے والی اسمبلی سیٹ بلی ماران 2.50 مربع کلومیٹر اور سب سے زیادہ رقبہ والی نریلا 143.42 مربع کلومیٹر ہے ۔ نئی دہلی سیٹ جہاں سے وزیر اعلی اروند کیجریوال مسلسل تیسری بار انتخابی میدان میں ہیں، سب سے زیادہ 28 امیدوار ہیں ۔ مسٹر کیجریوال کی ٹکر بی جے پی کے سنیل یادو اور کانگریس کے رمیش سبھروال سے ہے ۔ سب سے کم چار امیدوار پٹیل نگر سیٹ سے ہیں ۔ دہلی میٹرو اور دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے انتخابی عملے اور رائے دہندگان کی سہولت کے لئے مخصوص انتظامات کئے ہیں۔ووٹوں کی گنتی 11 فروری کو ہوگی جس کے لئے 27 مقامات پر ووٹوں کی گنتی کے لئے مراکز بنائے گئے ہیں۔

next