’ڈیفنس کا سسٹم اور میکانزم پوری طرح تباہ ہو چکا‘، کانگریس کا مودی حکومت پر سخت حملہ

کرنل روہت چودھری کے مطابق جوانوں کو یہ بھروسہ رہتا ہے کہ ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت ان کا اور ان کے کنبہ کا دھیان رکھے گی، لیکن مودی حکومت اس بھروسہ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس کرتے ہوئے کرنل روہت چودھری</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’’29 دسمبر 2025 کو دفاعی معاملوں کی پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ تھی، جس میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے فوجیوں سے جڑے کئی سوال اٹھائے تھے۔ راہل گاندھی نے معاملہ اٹھایا تھا کہ ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی ہیلتھ اسکیم پوری طرح سے چرمرائی ہوئی ہے۔ تقریباً 20 لاکھ جوانوں کے ہیلتھ بل پینڈنگ ہیں۔ بل سے متعلق یہ اعداد و شمار 9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ مودی حکومت نے ڈیفنس کے سسٹم اور میکانزم کو پوری طرح سے تباہ کر دیا ہے۔‘‘ یہ بیان کانگریس سابق سروس مین ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین کرنل روہت چودھری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ انھوں نے اس معاملہ میں تشویش کا اظہار کیا کہ اپنی پوری زندگی ملک کے نام کر دینے والے فوجیوں کو جب علاج کی ضرورت ہے، تو حکومت کے پاس بجٹ کا الاٹمنٹ تک نہیں ہے۔

میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کرنل چودھری نے کہا کہ ’’جوانوں کو یہ بھروسہ رہتا ہے کہ ان کی سبکدوشی کے بعد حکومت ان کا اور ان کے کنبہ کا دھیان رکھے گی۔ لیکن مودی حکومت اس بھروسہ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’2003 میں حکومت کے ذریعہ سابق فوجیوں کے لیے ای سی ایچ ایس لانچ کیا گیا تھا۔ کہا گیا تھا کہ یہ کیش لیس اور کیپ لیس اسکیم ہوگی۔ وہیں، سی اے جی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتنے دنوں میں سابق فوجیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، لیکن حکومت نے اس کے حساب سے نہ انفراسٹرکچر تیار کیا ہے اور نہ ہی فنڈ بڑھایا ہے۔‘‘


سی اے جی کی رپورٹ کے حوالہ سے کرنل چودھری نے فوج میں جوانوں کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے خالی اسامی کو فوری طور پر بھرنے کا مطالبہ کیا اور کچھ حقائق سامنے رکھے، جو فکر انگیز ہیں۔ مثلاً

  • سال 24-2023 میں 13500 کروڑ روپے کی ضرورت تھی، لیکن بدلے میں صرف 9831 کروڑ روپے ملے۔

  • سال 24-2023 میں کیری فاروارڈ لایبلٹی (سی ایف ایل) تقریباً 3500 کروڑ روپے تھی، جو 25-2024 میں 5400 کروڑ روپے ہو گئی۔ یہی سی ایف ایل اب 26-2025 میں 6 ہزار کروڑ روپے ہو جائے گی۔

  • یعنی اگر بجٹ میں 8000 کروڑ روپے الاٹ کیا جائے گا، تو گزشتہ سال کے بل کو لکویڈیٹ کرنے میں 6000 کروڑ روپے خرچ ہو جائیں گے اور محض 2000 کروڑ روپے ہی بچیں گے۔

  • اس طرح رواں سال 14 ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی، لیکن اگر یہ بجٹ الاٹ نہیں کیا جائے گی تو ای سی ایچ ایس کا ڈھانچہ پوری طرح سے بیٹھ جائے گا۔

  • سابق فوجی اہلکاروں کو امپینل اسپتالوں نے بھرتی کرنے سے منع کر دیا ہے۔ ہمارے گوا سے رکن پارلیمنٹ کیپٹن وریاٹو نے باقاعدہ اس معاملے کو اٹھایا ہے۔

  • ہمارے کئی ساتھیوں اور اداروں نے اس ایشو کو وزارت دفاع اور وزیر اعظم کے سامنے اٹھایا ہے۔ کئی خط لکھے گئے، لیکن سابق سروس مین ویلفیئر کے ڈائریکٹر سننے کو تیار نہیں ہیں۔

  • امپینل اسپتال کے بل ایک سال سے زیادہ تک زیر التوا ہیں، وہ اب سابق فوجی اہلکاروں کو بھرتی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کئی مقامات پر دواؤں کی دستیابی نہیں ہے۔ خود کے پیسوں سے خریدی ہوئی دوائیوں کا ’ری امبرسمنٹ‘ سالوں تک نہیں ہوتا۔

کانگریس لیڈر نے مودی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے پارٹی کے آئندہ منصوبوں کا ذکر بھی پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جنھوں نے ملک سنبھالا، ان کا علاج کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ای سی ایچ ایس میں اصلاح سابق فوجیوں کا حق ہے۔ ای سی ایچ ایس کو بچانے کی مہم میں ہم ملک بھر میں ایک ماہ کے لیے آؤٹ ریچ پروگرام شروع کر رہے ہیں۔ ہم نے اس میں ایک مسڈ کال نمبر دیا ہے اور کیو آر اسکینر دے رہے ہیں۔ اس سے جڑ کر سابق فوجی اپنے مسائل بتا سکتے ہیں اور اپنے زیر التوا بل سبمٹ کر سکتے ہیں۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’30 جنوری کے بعد بجٹ اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں مودی حکومت کو ہماری تنبیہ ہے کہ وہ ان 30 دنوں میں 14000 کروڑ روپے ای سی ایچ ایس کو دے دیں، ورنہ سابق فوجی دہلی میں اپنے ایشوز کو لے کر آواز اٹھائیں گے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔