منی پور: بی جے پی کے 12 اراکین اسمبلی کی ’نااہلی‘ پر فیصلہ جلد

عدالت عظمیٰ نے کیتھی کی رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران ان کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل کی عرضی سے اتفاق کیا کہ آئینی اتھارٹی فیصلے کو زیر التوا نہیں رکھ سکتی۔

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ منی پور کے گورنر 12 ریاستی قانون سازوں کی زیر التوا نااہلی معاملے میں جلد فیصلہ کریں گے۔ جسٹس ناگیشورا راؤ، جسٹس بی آر گاوائی اور جسٹس بی وی ناگرتھنا کی ڈویژن بنچ نے گزشتہ سماعت کے دوران منگل کو عرضی گزار تریپورہ کے کانگریس ایم ایل اے ڈی ڈی کیتھی کے اس استدلال سے اتفاق کیا کہ منی پور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 12 ایم ایل اے کو 'آفس آف پرافٹ' کے معاملے میں نااہل قرار دیئے جانے کے مسئلہ پر الیکشن کمیشن کی سفارش کے بعد گورنر اپنا فیصلہ دینے سے نہیں بچ سکتے۔

عدالت عظمیٰ نے ڈی ڈی کیتھی کی رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران ان کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل کی عرضی سے اتفاق کیا کہ آئینی اتھارٹی فیصلے کو زیر التوا نہیں رکھ سکتی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایم ایل اے کی میعاد ختم ہونے میں صرف ایک مہینہ باقی ہے۔ جسٹس ناگیشور راؤ، جو تین رکنی بنچ کی صدارت کر رہے تھے، نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ’’ہم آپ سے متفق ہیں کہ وہ (گورنر) فیصلہ لینے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے‘‘۔


ڈی ڈی کیتھی نے بی جے پی کے 12 ایم ایل اے کو اس بنیاد پر نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا کہ وہ پارلیمانی سکریٹریوں کے عہدے پر فائز ہیں، انہیں "آفس آف پروفٹ" قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 13 جنوری 2021 کو گورنر کو اپنی تجویز دی تھی لیکن اب تک گورنر نے اس معاملے پر فیصلہ نہیں کیا ہے۔ سینئر وکیل راجیو دھون نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کی رائے گورنر پر لازم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔