جان لیوا گڈھے اور آبی جماؤ نے ریکھا حکومت کے ’ترقی یافتہ دہلی‘ کی قلعی کھول دی: دیویندر یادو
دیویندر یادو نے کہا کہ آبی جماؤ اور خستہ حال سڑک کے سبب ہونے والے حادثات صرف مرکزی سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ حادثات دہلی کی غیر مجاز کالونیوں اور جھگی جھونپڑی والے علاقوں میں بھی ہو رہے ہیں۔

نئی دہلی: دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے آج ایک بار پھر دہلی کی ریکھا گپتا حکومت کو آبی جماؤ اور خستہ حال سڑک کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کا مطلب تباہی، بدانتظامی، ناکامی اور بدعنوانی والی حکومت ہے۔ چاہے نوئیڈا ہو، گڑگاؤں، فرید آباد یا دہلی ہو، ہر جگہ بی جے پی کی حکومت منظم سہولیات فراہم کرنے کے بجائے اپنی ناکامیوں کے سبب لوگوں کی جانیں لے رہی ہے۔ اس کی تازہ مثال نوئیڈا میں زیر تعمیر بیسمنٹ میں کار گرنے سے ایک نوجوان کی موت ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ نوئیڈا میں نوجوان کی موت نے جولائی 2024 میں راجندر نگر میں کوچنگ سنٹر کے بیسمنٹ میں پانی بھرنے سے 3 یو پی ایس سی طلبا کی ڈوب کر ہونے والی اموات کی یاد دلا دی۔ غازی پور میں سڑک پر کھلے نالے میں گرنے سے 23 سالہ خاتون اور اس کے بچے کی بھی موت ہو گئی تھی۔ 25-2024 میں دہلی میں پانی سے بھرے گڈھوں اور کھلے نالوں میں ڈوبنے سے 89 اموات ہوئیں، جبکہ گزشتہ ایک سال میں سڑک حادثات میں 1617 سے زائد جانیں گئیں۔ اتنا ہی نہیں، 2025 کے مانسون میں 11 اموات ہوئیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ریکھا گپتا حکومت کے ترقی یافتہ دہلی منصوبے کی قلعی کھولتی ہے۔
دیویندر یادو کا کہنا ہے کہ دہلی کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ گزشتہ 11 برسوں میں عام آدمی پارٹی اور ایک سال سے بی جے پی کی حکومت نے دہلی کی 38 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی مرمت پر سنجیدگی نہیں دکھائی۔ راجدھانی دہلی میں سڑکیں گڈھوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ بی جے پی حکومت نے 25 جون کو 1400 کلومیٹر طویل سڑکوں پر 3433 گڈھوں کی مرمت کا دعویٰ کیا تھا، حالانکہ نیو روہتک روڈ، پنجابی باغ، زکھیرا فلائی اوور، دوارکا، نجف گڑھ، منڈکا، نانگلوئی، پیرا گڑھی سمیت دہلی کی بیشتر سڑکیں پوری طرح تباہ ہو چکی ہیں، جو مسلسل لوگوں کی جان لینے کا سبب بن رہی ہیں۔
دیویندر یادو نے کہا کہ ریکھا حکومت سڑکیں بنانے، کھلے سیور اور نالے ڈھکنے، گڈھے بھرنے، ڈرینیج سسٹم کو بدلنے اور دہائیوں پرانی نالیوں کو تبدیل کرنے کے اعلانات تو بار بار کر رہی ہے، لیکن ان پر کام شروع کرنے کے لیے کابینہ کی جانب سے کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا گیا۔ اسی وجہ سے روزانہ کہیں نہ کہیں ٹوٹی سڑکوں کے باعث حادثات میں لوگ جان گنوا رہے ہیں۔ آبی جماؤ جیسے بحران سے نجات کے لیے ڈرینیج سسٹم سے متعلق فیصلوں پر اب تک کوئی کام شروع نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید اگلے مانسون میں کسی بڑے حادثے کے بعد ہی ریکھا گپتا حکومت نیند سے جاگے گی۔
دیویندر یادو نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ دہلی جل بورڈ، ڈی ڈی اے، پی ڈبلیو ڈی اور دہلی میونسپل کارپوریشن کو نالوں سے گاد نکالنے کا کام اپریل-مئی کے بجائے جنوری سے ہی شروع کر دینا چاہیے، کیونکہ ہر سال گاد نکالنے کا کام وقت پر مکمل نہ ہونے کے باعث دہلی والوں کو آبی جماؤ اور شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبی جمع اور خستہ حال سڑکوں سے ہونے والے حادثات صرف مرکزی سڑکوں پر ہی نہیں بلکہ حادثات دہلی کی غیر مجاز کالونیوں، بازآبادکاری والے علاقوں اور جھگی جھونپڑی والے علاقوں میں بھی ہو رہے ہیں۔ یہاں سڑکیں اس قدر خراب ہو چکی ہیں کہ لوگ اکثر سڑک حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہاں پانی کی نکاسی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس پر حکومت کو فوری طور پر توجہ دینی چاہیے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔