دتیا ضمنی انتخاب: ’بی جے پی حکومت سے ناراض عوام تبدیلی چاہتی ہے‘، کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ کا دعویٰ
کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ نے کہا کہ ’’ضمنی انتخاب ہمیشہ چیلنجنگ ہوتا ہے، کیونکہ حکمراں جماعت اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔‘‘

مدھیہ پردیش کے دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ نے منگل کو کاغذات نامزدگی داخل کر انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ اس دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ دتیا میں کانگریس کے حق میں ماحول بن رہا ہے اور عوام بی جے پی حکومت سے بے حد ناراض ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کانگریس پوری طاقت کے ساتھ انتخابی میدان میں اترے گی اور جیت درج کرے گی۔
گھنشیام سنگھ نے کہا کہ ضمنی انتخاب ہمیشہ چیلنجنگ ہوتا ہے، کیونکہ حکمراں جماعت اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ اس کے باوجود کانگریس عوام کے درمیان اپنے مسائل کے ساتھ جا رہی ہے اور اسے مثبت حمایت مل رہی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی سے لوگ خوش نہیں ہیں اور آنے والے وقت میں اس کا جواب انتخابی نتائج میں ملے گا۔
کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد گھنشیام سنگھ نے بی جے پی کے سینئر لیڈر نروتم مشرا کو ٹکٹ نہ ملنے کے معاملے پر بھی ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرا طویل عرصے تک بی جے پی کے اہم لیڈران میں سے رہے ہیں، اس لیے ان کا ٹکٹ کٹنا فطری طور پر موضع بحث بنا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں نروتم مشرا انتہائی معمولی فرق سے ہارے تھے اور موجودہ ضمنی انتخاب اسی انتخابی نتیجے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
کانگریس لیڈر اودھیش نائک نے بھی نروتم مشرا کو ٹکٹ نہ ملنے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹکٹ کٹنے کا درد اچھی طرح سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ خود بھی کئی بار ایسی صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں۔ نائک نے بتایا کہ حال ہی میں نروتم مشرا جذباتی نظر آئے تھے اور اپنی تقریر میں ان کا ذکر بھی کیا تھا۔ ان کے مطبق نروتم مشرا نے دتیا کی ترقی کے لیے کئی کام کیے ہیں، حالانکہ غلطیاں ہر انسان سے ہوتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹکٹ نہ ملنے کی تکلیف مشرا کے جذبات اور ان کے بیان میں صاف جھلکتا ہے۔
