دتیا ضمنی انتخاب: کانگریس نے سابق رکن اسمبلی گھنشیام سنگھ کو بنایا امیدوار

کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ دتیا علاقے کی سیاست کا ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں۔ وہ پہلے بھی دتیا اسمبلی حلقے کی نمائندگی کر چکے ہیں اور رکن اسمبلی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>دتیا اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

مدھیہ پردیش اسمبلی کی دتیا سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے کانگریس نے اپنے امیدوار کا اعلان کر دیا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے دتیا اسمبلی سیٹ سے سابق رکن اسمبلی گھنشیام سنگھ کی امیدواری کو منظوری دے دی ہے۔ پارٹی کے اس فیصلے کے ساتھ ہی دتیا سیٹ پر ضمنی انتخاب کا سیاسی ماحول مزید گرما گیا ہے۔ کانگریس تنظیم نے امیدوار کے انتخاب کے سلسلے میں پہلے ہی گھنشیام سنگھ کا واحد نام مرکزی قیادت کو بھیجا تھا۔ اعلیٰ قیادت نے تنظیم کی سفارش کو قبول کرتے ہوئے ان کی امیدواری پر حتمی مہر لگا دی۔

گھنشیام سنگھ دتیا علاقے کی سیاست کا ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں۔ وہ پہلے بھی دتیا اسمبلی حلقے کی نمائندگی کر چکے ہیں اور رکن اسمبلی کے طور پر خدمات انجام دے  چکے ہیں۔ بعد کے سالوں میں انہوں نے اپنا سیاسی مرکز سیوڈھا اسمبلی حلقے کی طرف منتقل کر دیا، جہاں سے انہوں نے انتخابی سیاست جاری رکھی۔ حالانکہ 2023 کے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میں گھنشیام سنگھ نے دتیا کی پڑوسی سیٹ سیوڈھا سے کانگریس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا، لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب ایک طویل عرصے کے بعد کانگریس نے انہیں دوبارہ دتیا اسمبلی حلقے سے انتخابی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔


دتیا علاقے میں گھنشیام سنگھ کی پہچان، تنظیم میں سرگرم کردار اور مقامی سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کانگریس نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کا تعلق دتیا راج گھرانے سے بھی مانا جاتا ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں ان کی سماجی اور سیاسی پہچان مضبوط مانی جاتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دتیا اسمبلی سیٹ پر ہونے والا ضمنی انتخاب کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دونوں کے لیے وقار کا مقابلہ مانا جا رہا ہے۔ کانگریس اس سیٹ پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے، جبکہ بی جے پی بھی یہ سیٹ برقرار رکھنے کے لیے اپنی پوری طاقت جھونکنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کانگریس کی طرف سے امیدوار کے اعلان کے بعد اب دتیا میں انتخابی سرگرمیاں تیز ہونے کی امید ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں بڑی پارٹیوں کے سینئر لیڈران کی انتخابی مہم اور عوامی جلسوں کا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے۔