دتیا: ٹکٹ کٹنے پر نروتم مشرا کے حامیوں کا ہنگامہ، این ایچ 44 جام، پتھراؤ میں ایس پی اور اے ایس پی سمیت 8 زخمی
بی جے پی نے دتیا ضمنی انتخاب کے لیے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کی جگہ آشوتیش تیواری کو امیدوار بنایا ہے۔ مشرا اور ان کے حامیوں کو امید تھی کہ پارٹی انہیں ہی ٹکٹ دے گی۔
مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے بی جے پی کی جانب سے امیدوار کا اعلان کیے جانے کے بعد شروع ہونے والا احتجاجی مظاہرہ پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ سابق وزیر داخلہ نروتم مشرا کو ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض حامیوں نے جمعہ کی شام قومی شاہراہ-44 پر چکا جام کر دیا، جو دیر رات تشدد میں تبدیل ہو گیا۔ دتیا انتظامیہ کے مطابق یہ جام تقریباً 11 گھنٹے تک جاری رہا اور صبح تقریباً 5 بجے جا کر صورتحال پر قابو پایا جا سکا۔ مظاہرے کے باعث 20 سے 25 کلومیٹر طویل ٹریفک جام لگ گیا۔ اس کا اثر دتیا کے علاوہ جھانسی، شیوپوری اور گوالیر تک پڑا، جس میں سب سے زیادہ متاثر گوالیر رہا۔ جام میں کئی بسیں اور ایمبولینس بھی پھنس گئیں۔
دتیا کے کلکٹر سوپنل وانکھیڑے نے بتایا کہ انتظامیہ پوری رات مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کرتی رہی، لیکن وہ نہ مانے۔ علی الصبح تقریباً 4 بجے پولیس اور انتظامیہ نے ایک بار پھر مظاہرین سے سڑک خالی کرنے کی اپیل کی، لیکن اس کے بعد مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ شروع ہو گیا۔ کلکٹر کے مطابق حالات بگڑنے پر پولیس نے ہجوم کو پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ اس کے بعد مظاہرین ایک دفتری عمارت کے اندر چلے گئے اور وہاں سے بھی پولیس پر مسلسل پتھراؤ کرتے رہے۔ اس تشدد میں پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی)، ایڈیشنل ایس پی، ایس ڈی او پی سمیت کل 8 پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ کلکٹر سوپنل وانکھیڑے نے بتایا کہ ان کے سر پر بھی پتھر لگا، حالانکہ ہیلمٹ پہننے کی وجہ سے وہ شدید چوٹ سے محفوظ رہے۔
انتظامیہ کے مطابق تشدد کے دوران کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ 3 سے 4 پولیس گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، کئی ٹرکوں کو نقصان پہنچایا گیا اور کچھ گاڑیوں کو الٹ بھی دیا گیا۔ کلکٹر نے کہا کہ پورے واقعے کے دوران پولیس نے نہ تو لاٹھی چارج کیا اور نہ ہی جوابی پتھراؤ کیا۔ انتظامیہ نے صورتحال کو پرامن طریقے سے سنبھالنے کی پوری کوشش کی اور جب کوئی دوسرا متبادل نہیں بچا، تب ہی آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال انتظامیہ مظاہرین سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ ایک ایک کر کے باہر نکلیں اور اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ اگر وہ امن و امان کے ساتھ باہر آتے ہیں تو انتظامیہ کسی قسم کی تادیبی کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔ تاہم اگر وہ گروہ بنا کر باہر نکلنے یا دوبارہ امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ بی جے پی نے دتیا ضمنی انتخاب کے لیے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کی جگہ آشوتیش تیواری کو امیدوار بنایا ہے۔ مشرا اور ان کے حامیوں کو امید تھی کہ پارٹی انہیں ہی ٹکٹ دے گی۔ امیدوار کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں حامی سڑکوں پر اتر آئے اور احتجاجی مظاہرہ شروع ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں : نروتم مشرا کا ٹکٹ کٹنے پر ان کے حامیوں میں ناراضگی!
قابلِ ذکر ہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے راجیندر بھارتی نے ڈاکٹر نروتم مشرا کو تقریباً 7500 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ اپریل 2026 میں دہلی کی ایک عدالت کی جانب سے دھوکہ دہی کے معاملے میں راجیندر بھارتی کو 3 سال کی سزا سنائے جانے کے بعد ان کی اسمبلی رکنیت ختم ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے دتیا سیٹ خالی ہوئی۔ اس سیٹ پر 30 جولائی کو پولنگ اور 3 اگست کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
