کرناٹک میں دلت ملازم کو ’مین ہول‘ صفائی کے لیے کیا گیا مجبور، مینجمنٹ نے کہا ’غلاظت ڈھونا تمھاری ذمہ داری‘

بنگلورو کے ایک مشہور اسپتال میں کام کرنے والے 3 ملازمین کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے، دراصل انھوں نے ایک دلت ملازم کو سیور کھولنے کے لیے مین ہول صاف کرنے پر مجبور کیا تھا۔

مین ہول، تصویر آئی اے این ایس
مین ہول، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بنگلورو کے ایک مشہور اسپتال میں کام کرنے والے 3 ملازمین کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔ انھوں نے ایک دلت ملازم کو سیور کھولنے کے لیے مین ہول صاف کرنے پر مجبور کیا۔ اسی وجہ سے ان کے خلاف پولیس میں معاملہ درج کی گیا ہے۔ یہ جانکاری پولس افسران نے منگل کے روز دی۔ اسپتال کے ہاؤس کیپنگ سپروائزر ڈی راجہ، گلربٹ اور منیجر پر درج فہرست ذات/درج فہرست قبائل انسداد مظالم ایکٹ 1989 کی دفعہ 3(1)(جے) اور ہاتھ سے غلاظت ڈھونے اور بازآبادکاری ایکٹ 2013 کے امتناع کی دفعہ 7، 8، 9 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

دیودینم، 53 سالہ متاثرہ کی جانب سے کرناٹک سمتا سینک دل اور سماجی فلاح محکمہ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مدھوسودن کے این کی شکایت کے مطابق کارروائی کی گئی تھی۔ متاثرہ ایک مستقل ملازم ہے اور 21 سال سے اسپتال میں کام کر رہا ہے۔ دیودینم کو خود کو مین ہول میں نیچے اتارنے اور سیور صاف کرنے کے لیے کہا گیا۔ ان کے منع کرنے پر ملزمین نے انھیں سروس سے برخاست کرنے کی دھمکی دی۔ مینجمنٹ نے اسے یہ بھی بتایا تھا کہ ہاتھ سے غلاظت ڈھونے کا کام کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ جوکھم میں ہونے کے باوجود دیودینم کو مین ہول کو کھولنا پڑا۔ بعد میں انھوں نے سمتا سینک دل سے رابطہ کیا اور بنگلورو کے ہلاسورو پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔


اس درمیان مدھو (27)، ایک صفائی ملازم (کلینر) بیمار پڑ گیا اور پیر کو میسورو ضلع کے پیریاپٹنا میں ایک مین ہول کی صفائی کے بعد اسپتال میں اس کی موت ہو گئی۔ اس مین ہول میں مدھو سمیت تین میونسپل کارپوریشن کے ملازم کام کرتے تھے، وہ سبھی بیمار پڑ گئے۔ مہلوک کے کنبہ میں بیوی اور دو بچے ہیں۔ ضلع کمشنر دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کے بعد افسران نے بیوی کو ایک سرکاری ملازم کے لیے ایک عرضداشت پیش کرنے کے لیے کہا اور معاوضے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔