اوڈیشہ کے بالیشور اور دھرما میں ساحل سے ٹکرایا سمندری طوفان یاس، بڑے پیمانے پر نقصانات کا خدشہ

مرتنیوجے مہاپترا نے کہا کہ ساحلی اور شمالی اوڈیشہ میں کافی بارش ہوگی۔ سمندری طوفان کا بالیشور اور بھدرک اضلاع میں کافی اثر پڑے گا اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچے گا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

بھوونیشور: سمندری طوفان یاس کا بدھ کی صبح اوڈیشہ میں بالیشور کے جنوب اور دھرم کے شمال میں لینڈ فال کا عمل شروع ہوگیا۔ محکمہ ہند محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل مرتنیوجے مہاپترا نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تین سے چار گھنٹے تک جاری رہے گا۔ یاس بالیشور اور دھرما کے درمیان بہانگا سا کے نزدیک ریمونا سدا بلاک کے پاس کہیں ٹکرائے گا۔

مرتنیوجے مہاپترا نے بتایا کہ ہوا کی رفتار اب 130 سے ​​140 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور اس کی رفتار 150 کلو میٹر تک بڑھ جانے کا امکان ہے۔ ساحلی اور شمالی اوڈیشہ میں کافی بارش ہوگی۔ سمندری طوفان کا بالیشور اور بھدرک اضلاع میں کافی اثر پڑے گا اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچے گا۔


انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات ہر گھنٹہ کی بنیاد پر سمندری طوفان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے ساحلی اوڈیشہ کے لوگوں خصوصاً بالاسور اور بھدرک اضلاع کے عوام سے اپنے گھروں اور پناہ گاہوں سے تب تک باہر نہ نکلنے کی اپیل کی ہے جب تک طوفانوں کا خطرہ ٹل جانے کا اعلان نہ کر دیا جائے۔ دریں اثنا، سمندری طوفان کے پیش نظر بیجو پٹنائک انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آج پروازیں معطل کردی گئیں۔

خصوصی ریلیف کمشنر پی کے جینا نے بتایا کہ 10 ساحلی اضلاع سے تقریباْ 5.80 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات اور طوفان سے محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ ریاستی حکومت پہلے ہی نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی 52 ٹیموں، اوڈیشہ ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی 60 ٹیموں اور فائر خدمات کی 206 ٹیموں کے ساتھ ہی چار ہزار دیگر امدادی عملے کو اس طوفان سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور راحت کاموں پر تعینات کرچکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔