پیگاسس معاملہ پر حکومت کا حلف نامہ داخل کرنے سے انکار، عدالت ناراض

سماعت کے دوران مرکز کی جانب سے واضح کر دیا گیا کہ حکومت اس معاملہ میں کوئی حلف نامہ داخل نہیں کر رہی، بلکہ جانچ کے لئے ایک پینل تشکیل دے رہی ہے کیونکہ ایسے معاملوں میں حلف نامہ داخل نہیں کیا جا سکتا۔

علامتی تصویر، آئی اے این ایس
علامتی تصویر، آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پیگاسس معاملہ میں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے اس تعلق سے حلف نامہ داخل کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ان کے اس جواب پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سخت ناراض ہو گئے۔ اس جواب کو سننے کے بعد چیف جسٹس رامنا نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس سے پہلے حلف نامہ داخل کرنے کے لئے دو مرتبہ وقت مانگا اور اب حلف نامہ داخل کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت جاننا چاہتی ہے کہ آخر حکومت اس معاملہ پر کر کیا رہی ہے۔

واضح رہے آج جب سپری کورٹ میں سنوائی شروع ہوئی تو مرکزی حکومت کی جانب سے واضح کر دیا گیا کہ حکومت اس معاملہ میں کوئی حلف نامہ داخل نہیں کر رہی بلکہ اس معاملہ میں جانچ کے لئے ایک پینل تشکیل دے رہی ہے، کیونکہ ایسے معاملوں میں حلف نامہ داخل نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کے اس جواب پر چیف جسٹس رامنا نے کہا کہ عدالت جاننا چاہتی ہے کہ حکومت اس معاملہ میں کیا کر رہی ہے۔


دوسری جانب حکومت کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ جاسوسی کے لئے کسی خاص سافٹ ویئر کا استعمال ہوا یا نہیں، یہ پبلک ڈومین کا معاملہ نہیں ہے۔ اس معاملہ میں ایک آزادنہ جانچ کروائی جا سکتی ہے اور اس جانچ کو سپریم کورٹ میں داخل کرایا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے اس دلیل پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بار بار اسی بات پر واپس جا رہی ہے، جبکہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت اس معاملہ میں کیا کر رہی ہے۔ عدالت نے پبلک ڈومین والی دلیل پر کہا کہ وہ قومی مفاد کے معاملہ پر نہیں جانا چاہتی کیونکہ عدالت کی محدود فکر عوام کے بارے میں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 13 Sep 2021, 4:32 PM