کورونا وائرس نے انسانوں کے ساتھ ساتھ ’فٹنس انڈسٹری‘ کو بھی کیا بیمار

فٹنس انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ بحرانی حالات میں نامور باڈی بلڈر اور ایتھلیٹ نے احتیاطی تدابیر کے ساتھ جم اور ورزش کے مراکز کھولنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔

تصویر محمد تسلیم
تصویر محمد تسلیم
user

محمد تسلیم

نئی دہلی: موذی کورونا وائرس یعنی كووڈ-19 انسان کے لیے مضر و مہلک بیماری تو ہے ہی لیکن اس بیماری نے اب معیشیت کو بھی تباہ و برباد کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے سبب لاکھوں لوگ اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کورونا وائرس کے خطرہ نے اب فٹنس انڈسٹری کو بھی بیمار کردیا ہے۔ فٹنس انڈسٹری سے وابستہ افراد اب فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ تاہم حکومت سے جم اور ورزش کے مراکز کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر ملک بھر میں نافذ لاک ڈاؤن کے بعد تباہ معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے دھیرے دھیرے اَن لاک کا عمل شروع ہو چکا ہے اور کئی بازاروں سمیت صنعتی اکائیوں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ لیکن اب بھی کئی ایسے کاروبار ہیں جو اَن لاک ہونے کے بعد بھی اب تک بند ہیں۔ ان میں سے ایک فٹنس انڈسٹری ہے جو گزشتہ پانچ ماہ سے بند ہے۔ اس بندی کے سبب جم مالکان اور فٹنس کی کوچنگ دینے والے کوچ سخت پریشان ہیں۔ کیونکہ ان کا ذریعہ معاش صرف جم تھا اُسی سے یہ اپنی روزی روٹی کماتے تھے۔ نیز اب یہ روزگار بالکل ختم ہوگیا ہے۔


زیادہ تر جم کرائے کی جگہوں پر چلائے جا تے ہیں۔ جم بند ہونے سے جم مالکان کو کرایہ ادا کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کے خطرات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے امسال مارچ کے مہینه سے جم کھولنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ جم کھولنے کی حمایت میں اب ہندوستان کے معروف باڈی بلڈر، ایتھلیٹ، ویڈیو پیغام جاری کر رہے ہیں اور جم کھولو کا نعرہ بلند کرنے لگے ہے۔ کانگریس نے تو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ’جم کھولو مودی جی‘ کا ہیش ٹیگ بھی چلایا ہے۔ جس کو نوجوان طبقہ کافی پسند کر رہا ہے۔

دہلی جم ایسوسی ایشن کی رکن اور بین الاقوامی باڈی بلڈنگ ایتھلیٹ ڈاکٹر ریٹا جے رتھ نے اپنے ویڈیو پیغام میں مرکزی و ریاستی حکومت سے جم کھولنے کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے سبب سارے جم بند ہیں۔ اس کے علاوہ فٹنس انڈسٹری سے جڑی تمام سرگرمیاں بھی بند ہو چکی ہیں۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ریٹا جے رتھ نے کہا کہ جم بند ہونے سے لاکھوں لوگ اور اُن کا کنبہ معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔

کورونا وائرس نے انسانوں کے ساتھ ساتھ ’فٹنس انڈسٹری‘ کو بھی کیا بیمار

جہاں ان لاک 1 اور ان لاک 2 میں کئی صنعتوں کو کھولنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ان لاک 3 میں فٹنس انڈسٹری کو بھی اجازت ملنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک کھلاڑی مقابلہ میں اپنے وطن کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ بہت ہی ذمہ دار افراد ہوتا ہے۔ تاہم اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے لیے فٹنس پر کافی محنت بھی کرتا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ دہلی جم ایسوسی ایشن کے سبھی رکن اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے جم کھولیں جائیں تاکہ باڈی بلڈر صحت مندانہ سر گرمیوں کو جاری رکھ سکیں۔

قومی آواز کے نمائندہ نے جم اور فٹنس انڈسڑی سے جڑے افراد سے ان کے حالات جاننے کی کوشش کی۔شمال مشرقی دہلی کے علاقے سیلم پور میں باڈی بلڈر اور جم کے مالک ساجد قریشی نے کہا کہ پانچ ماہ سے ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر خالی بیٹھے ہے۔ جم کے نہ کھلنے سے اب ہمیں اپنے کنبه کے اخراجات پورے کرنے میں سخت پریشانی آنے لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا جم 30 ہزار روپے ماہانہ کرائے پر ہے۔ اور جم میں ایک ٹرینر بھی رکھا ہوا ہے جس کی تنخواہ 10 ہزار ہے، باقی خرچے الگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جم کے نہ کھلنے سے سارا خرچ اپنی جیب سے بھرنا پڑ رہا ہے، پانچ ماہ کا عرصہ کافی طویل ہوتا ہے اب ہم اس سے زیادہ انتظار نہیں کر سکتے۔


ساجد قریشی نے بتایا کہ آج حالات یہ ہے جن ٹرینرز کو لوگ سر کہہ کر پکارتے تھے آج وہ مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ بعض تو ٹھیلہ لگا کر سبزی و پھل بیچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جم کے نہ کھلنے سے ورزش کی مشینوں کو زنگ آلود ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جس طرح بازار، مارکیٹوں کو کھولا گیا ہے اب جم بھی کھولے جائیں۔

کورونا وائرس نے انسانوں کے ساتھ ساتھ ’فٹنس انڈسٹری‘ کو بھی کیا بیمار

نام نہ شائع کرنے کی شرط پر ورزش کے شائقین نے نمائندہ سے کہا کہ مودی جی فٹ انڈیا موومنٹ کی بات تو کرتے ہیں لیکن آج جب فٹنس انڈسٹری کی حالت خراب ہے تو مودی جی خاموش ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک باڈی بلڈر اور ایتھلیٹ مسلسل محنت کرتا ہے، تاہم ورزش کے دنوں میں وہ پرہیز کا کھانا کھاتا ہے جو کافی مشکل بھرا کام ہوتا ہے، وہ ایسا اس لیے کرتا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو فٹ رکھ سکے اور جس مقابلہ کی وہ تیاری کر رہا ہے اس میں وہ فرسٹ پوزیشن حاصل کرکے ملک کا نام روشن کرے۔


احسان نامی ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم پڑھائی کرنے اسکول، کالج یا پھر انسٹی ٹیوٹ میں جاتے ہیں ٹھیک اسی طرح جم ایک اتھلیٹ کے لیے یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے۔ انہوں نے مایوس اندازِ میں کہا کہ آپ دیکھ سکتے ہے کہ اخباروں میں روزآنہ خبریں شائع ہو رہی ہیں ہمارے اُبھرتے ہوئے ایتھلیٹ، کھلاڑی ریڑھی، ٹھیلہ لگانے پر مجبور ہیں۔

نتیش نامی نوجوان کا کہنا ہے شراب کے ٹھیکے کھولے جا رہے ہیں لیکن جم کیوں نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جس طرح سماجی فاصلے پر عمل کرتے ہوئے سارے کام کیے جا رہے ہیں ٹھیک اُسی طرح جم بھی کھولے جائیں۔ جم بند ہونے سے پھلوں کے جوس کے کاروبار پر بھی اچھا خاصہ اثر پڑا ہے۔ ارشاد نامی دکاندار نے بتایا جم کے نہ کھلنے سے ہماری 70 فیصد دکانداری ختم ہو چکی ہے۔ نوجوان ورزش کرنے کے بعد مِلک شیک، بنانا شیک، کھجور شیک کے علاوہ دیگر مشروبات پیتے تھے۔ اب ساری سرگرمیاں بند ہیں۔


ساحل نامی سپلیمنٹ ڈسٹربیو ٹر نے نمائندہ کو بتایا جم بند ہیں، لیکن کچھ لوگ کورونا کی وجہ سے گھر پر ہی ورزش کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں سپلیمنٹ کا کاروبار بھی ختم ہو چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پانچ ماہ سے اگر کسی کے پاس روزگار نہ ہو اس کی کیا حالت ہو گی اس بات کو سبھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہماری تو یہی مانگ ہے کہ جم کو جلد از جلد کھولا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 27 Jul 2020, 8:58 PM