ویکسین کی قلت کے سبب ٹیکہ کاری مراکز ویران، دہلی، بنگال، آسام، پنجاب سمیت کئی ریاستوں میں اسٹاک ختم

دہلی، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، راجستھان اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں نے ویکسین کا اسٹاک ختم ہونے کی شکایت کی ہے۔ مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں بدھ کے روز ٹیکہ کاری مراکز پوری طرح سے بند رہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مرکزی حکومت نے کورونا وبا پر قابو پانے کے لیے یکم مئی 2021 کو ایک نئی ٹیکہ کاری پالیسی نافذ کی تھی۔ اس پالیسی کے تحت 18 سے 44 سال کے لوگوں کے لیے ٹیکہ خریدنے کا ذمہ ریاستی حکومتوں کو دیا گیا تھا۔ لیکن اس پالیسی کی وجہ سے ٹیکہ کاری کی رفتار میں کمی ہونے لگی۔ اتنا ہی نہیں، ریاستوں کو ٹیکہ خریدنے میں بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اپوزیشن پارٹیوں کی حکومتوں کے ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ نے بھی حکومت کی نئی ٹیکہ کاری پالیسی پر کئی سنگین سوال اٹھا دیے۔ ان حالات میں مرکزی حکومت کو ٹیکہ کاری پالیسی میں پھر سے تبدیلی کا اعلان کرنا پڑا۔ 21 جون سے نئی ٹیکہ کاری پالیسی نافذ کی گئی۔ لیکن اس کے بعد بھی کئی ریاستیں ویکسین کی کمی کو لے کر مرکزی حکومت سے گزارش کر رہی ہیں کہ جلد ٹیکے دستیاب کرائے جائیں۔ دہلی، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، راجستھان اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں نے ویکسین کا اسٹاک ختم ہونے کی شکایت کی ہے۔ مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں آج یعنی بدھ کو ٹیکہ کاری مراکز بند رہے جس کے سبب ٹیکہ لگوانے گئے لوگوں کو مایوس ہو کر گھر لوٹنا پڑا۔

دہلی حکومت اور مکز کے درمیان کورونا ویکسین کو لے کر ٹکراؤ چل رہا ہے۔ اسی درمیان دہلی میں پھر سے ویکسین ختم ہونے کی خبر ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ویکسین کی سپلائی دہلی میں تقریباً ختم ہے۔ جمعرات سے بیشتر ٹیکہ کاری مراکز میں ویکسین نہیں ہوگی۔ جب تک جولائی کا کوٹہ نہیں آ جاتا، تب تک کے لیے ٹیکہ کاری روکنی پڑے گی۔


مغربی بنگال میں بھی کورونا کا ٹیکہ ختم ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بدھ کو کہا کہ ویکسین کی کمی کے سبب کولکاتا میں بدھ کو صرف دوسری خوراک ہی دی جا رہی ہیں۔ انھوں نے مرکزی حکومت پر کم ویکسین دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں 1.99 کروڑ کورونا ویکسین کی خوراک ملی اور اس میں سے ہم نے 1.90 کروڑ ڈوز لگا دیے۔ آج ہمارے پاس ویکسین نہی ں ہے اس لیے ہم کولکاتا میں صرف سیکنڈ ڈوز دے رہے ہیں۔ وہ ریاستیں جو مغربی بنگال کے مقابلے میں چھوٹی ہیں، انھیں ہم سے زیادہ ویکسین ملی ہے۔‘‘

راجستھان کی راجدھانی جے پور میں ویکسین ختم ہونے کے سبب پیر کے بعد منگل کو بھی ٹیکہ کاری مراکز نہیں کھل پائے۔ ریاست کے کئی دیگر اضلاع کا بھی یہی حال ہے۔ راجستھان ٹیکہ کاری مہم کو رفتار دینے والی سرفہرست ریاستوں میں شامل ہے۔ وہاں ہر دن 15 لاکھ ویکسین ڈوز دینے کا انتظام ہے۔ ریاست میں ویکسین کی کمی کے سبب پیر کو دو لاکھ اور منگل کو 60 ہزار خوراک لگ سکیں۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ ریاست میں تقریباً 75 لاکھ لوگوں کی دوسری خوراک جولائی میں باقی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’پورے ملک میں ہم ٹیکہ کاری میں سب سے پہلے آگے بڑھے، اس کا نتیجہ ہے کہ ریاست میں تقریباً 75 لاکھ لوگوں کی دوسری ڈوز جولائی میں باقی ہے، جب کہ حکومت ہند نے تقریباً 65 لاکھ خوراک دینے کا ہی طے کیا ہے جو بہت کم ہے، جب تک ڈیڑھ کروڑ خوراک نہیں ملے گی تب تک ہم جولائی میں فرسٹ، سیکنڈ خوراک لگا نہیں لگا پائیں گے۔‘‘


پنجاب میں بھی ویکسین کی کمی ہو گئی ہے۔ یہاں کووی شیلڈ ختم ہو گئی ہے، جب کہ کوویکسن کی ایک لاکھ سے زیادہ خوراک بچی ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ مرکزی حکومت سے کئی بار ویکسین کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مرکز جتنی جلدی ہو ہمیں اور ویکسین دے تاکہ اگلے دو مہینوں میں 18 سے 45 سال کی عمر والے سبھی لوگوں کی ٹیکہ کاری کی جا سکے۔

کئی ریاستوں میں ٹیکہ ختم ہونے کے بعد ٹیکہ کاری مراکز بند ہو گئے ہیں۔ جھارکھنڈ میں بھی کورونا ویکسین کا اسٹاک منگل کو تقریباً ختم ہو گیا۔ ایسے میں ریاست میں بدھ سے ٹیکہ کاری تقریباً ٹھپ ہو گئی ہے۔ جن اضلاع کے پاس کچھ ویکسین بچی ہیں، اس سے ہی ٹیکہ کاری ہو پائے گی۔ کئی اضلاع میں اگلے چار دنوں تک ٹیکہ کاری مہم بند رکھنے سے متعلق نوٹس بھی چسپاں کر دیا گیا ہے۔


مہاراشٹر کے کئی اضلاع میں بھی ویکسین کی کمی کے سبب ٹیکہ کاری مہم روک دی گئی ہے۔ ناگپور میں بھی ویکسین کی کمی کے سبب بدھ کو کئی ٹیکہ کاری مراکز بند رہے۔ ویکسین لگوانے گئے لوگ گھنٹوں لائن میں کھڑے ہو کر انتظار کرتے رہے۔ بعد میں مایوس ہو کر بغیر ویکسین لگوائے ہی لوگ گھر لوٹ گئے۔ وہیں آسام کی راجدھانی گواہاٹی میں ویکسین نہیں ہونے کی وجہ سے کئی ٹیکہ کاری مراکز بند ہیں۔ ایک خاتون نے بتایا کہ ’’ہمیں آج 30 جون کو میسج کر کے ویکسین کے لیے بلایا گیا تھا۔ ہم دوسری خوراک لینے آئے تھے۔ کہا گیا ہے کہ ویکسین نہیں ہے اور ویکسین کب آئے گی، یہ بھی پتہ نہیں ہے۔‘‘

بی جے پی حکمراں گجرات میں بھی کورونا ویکسین کی کمی ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے ٹیکہ کاری پروگرام کو روکنا پڑا۔ گجرات کے احمد آباد میں ویکسین کی کمی کے سبب ٹیکہ کاری مراکز ویران پڑے رہے۔ کرناٹک میں بھی ٹیکہ کاری مہم کی رفتار کافی دھیمی ہو گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 30 Jun 2021, 8:11 PM