کورونا انفیکشن: ’ہندوستان میں ایک معاملہ درج ہوا تو 30 کا پتہ ہی نہیں چلا‘

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو سب سے زیادہ یو پی میں کورونا معاملے درج نہیں ہو پائے، وہاں ایک معاملہ درج ہوا تو 98 ایسے معاملے رہے جن کا پتہ نہیں چلا۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

تنویر

ہندوستان میں کورونا بحران کے دوران کئی مراحل کے سیرو سروے ہو چکے ہیں اور اس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ آئی سی ایم آر کی طرف سے چوتھے سیرو سروے کا جو نتیجہ برآمد ہوا ہے وہ حیران کرنے والا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اگر کورونا کا ایک معاملہ درج ہوا ہے تو 30 کورونا مریضوں کے بارے میں پتہ ہی نہیں چل سکا۔ مشہور و معروف ماہر وبا (ایپیڈومولاجسٹ) ڈاکٹر چندرکانت لہریا نے چوتھے سیرو سروے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں کورونا کا اگر ایک معاملہ درج ہوا ہے تو 30 معاملے ایسے رہے جن کا پتہ ہی نہیں چلا، یا پھر درج نہیں ہو پایا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا قصداً کیا گیا۔

ڈاکٹر لہریا نے ٹوئٹر پر اس تجزیہ کو شیئر کرتے ہوئے ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان میں ہر معاملے پر کتنے ایسے معاملے تھے جن کا پتہ ہی نہیں چلا۔ اس درمیان لہریا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’کئی معاملے بغیر علامت والے تھے جس سے ان کا پتہ نہیں چلا۔ اگر ٹھیک طرح سے مریضوں کے رابطے کا پتہ کیا جاتا تو بغیر علامت والے معاملوں کا بھی پتہ چل سکتا تھا۔ یہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ ریاستوں نے دوسروں کے مقابلے میں بہتر مظاہرہ کیا ہے کیونکہ وہ دیگر ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ معاملے سامنے لا پائے۔‘‘


مرکزی وزارت صحت نے بدھ کے روز ملک کے 70 اضلاع میں آئی سی ایم آر کی طرف سے کیے گئے قومی سیرو سروے کے چوتھے مرحلہ کے نتائج کو شیئر کیا۔ مدھیہ پردیش 79 فیصد سیرو موجودگی کے ساتھ لسٹ میں سب سے آگے ہے، وہیں 44.4 فیصد کے ساتھ کیرالہ میں سیرو کی سب سے کم موجودگی ملی۔ اس کے بعد 50.3 فیصد کے ساتھ آسام اور 58 فیصد کے ساتھ مہاراشٹر کا مقام ہے۔

تجزیہ کے مطابق تجربہ گاہ میں کووڈ-19 کے ایک معاملے کی تصدیق کے تناسب میں 6 سے 98 تک ایسے معاملے رہے جو درج نہیں ہو پائے۔ لہریا کے مطابق ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کے اعداد و شمار کے تجزیہ کے مطابق سب سے زیادہ اتر پردیش میں معاملے درج نہیں ہو پائے۔ اتر پردیش میں ایک معاملہ درج ہوا تو 98 ایسے معاملے رہے جن کا پتہ نہیں چلا۔ کیرالہ میں ایک معاملہ درج ہوا تو 6 معاملوں کا پتہ نہیں چل پایا۔ اتر پردیش کے بعد مدھیہ پردیش ایسی ریاست رہی جہاں فی معاملہ پر 83 معاملے سامنے نہیں آ پائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔