کورونا بحران: پارلیمنٹ کے 400 ملازمین متاثر پائے گئے

راجیہ سبھا سکریٹریٹ نے کورونا کے معاملوں میں اچانک اچھال کے بعد ملازمین کی حاضری پر پابندی عائد کر دی ہے، نیز 50 فیصد ملازمین گھر سے ہی کام کریں گے۔

پارلیمنٹ کی فائل تصویر، یو این آئی
پارلیمنٹ کی فائل تصویر، یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی میں واقع پارلیمنٹ کے تقریباً 400 ملازمین اچانک کئے گئے ٹیسٹ کے دوران کورونا پازیٹو پائے گئے ہیں۔ قومی راجدھانی میں نئے کیسوں میں اچانک اضافے کے پیش نظر 6-7 جنوری کو اچانک ٹیسٹ کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ 4 سے 8 جنوری کے دوران راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے 65، لوک سبھا سکریٹریٹ کے تقریباً 200 اور پارلیمنٹ میں کام کرنے والے 133 دیگر افراد کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو نے رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔


راجیہ سبھا سکریٹریٹ نے افسران اور ملازمین کی حاضری پر پابندی لگا دی ہے۔ تازہ ترین ہدایات کے مطابق انڈر سکریٹری/ ایگزیکٹیو آفیسر کے عہدے سے نیچے کے 50 فیصد افسران اور ملازمین کو اس ماہ کے آخر تک گھر سے کام کرنا ہوگا۔ وہ کل افرادی قوت کا تقریباً 65 فیصد ہیں۔

معذور اور حاملہ خواتین کو دفتر میں حاضری سے استثنیٰ حاصل ہے۔ تمام سرکاری ملاقاتیں ورچوئل ہوں گی۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو نے ہدایت دی ہے کہ تمام 1300 افسران اور ملازمین کا کورونا ٹیسٹ کیا جائے۔ ان کے انفیکشن کی کڑی نگرانی کی جانی چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو اسپتال میں داخل ہونے اور علاج میں مدد کی جانی چاہیے۔


خیال رہے کہ ہفتہ کی شام قومی راجدھانی میں 20181 نئے کورونا کیسز درج کئے گئے ہیں، یہ تعداد گزشتہ آٹھ مہینوں میں سب سے زیادہ ہے۔ نئے کیسز کے بعد شہر میں متاثرین کی تعداد 15 لاکھ 26 ہزار 979 ہو گئی ہے۔ جبکہ مزید سات اموات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 25143 ہو گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔