دہلی میں مہنگے ہوٹلوں میں بنائے گئے کورونا سنٹر بند ہوں گے

اروند کیجریوال نے کہا کہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے کچھ ہوٹلوں کو کورونا کیئر اسپتالوں میں تبدیل کیا گیا تھا۔ حکومت نے 25 سے زائد ہوٹلوں میں کووڈ کیئر سنٹر بنائے گئے تھے۔

تصویر cntraveller.in
تصویر cntraveller.in
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی سرکار نے راجدھانی میں کورونا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے آرہی کمی کے پیش نظر اسپتالوں سے جوڑ کر مہنگے ہوٹلوں میں بنائے گئے کورونا کیئر سنٹروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بدھ کے روز اس کی اطلاع دی۔ کیجریوال نے کہا کہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے کچھ ہوٹلوں کو کورونا کیئر اسپتالوں میں تبدیل کیا گیا تھا۔ حکومت نے 25 سے زائد ہوٹلوں میں کووڈ کیئر سنٹر بنائے گئے تھے۔

دہلی میں گزشتہ کچھ وقت سے مریضوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اب اسپتال میں بھی مریضوں کی تعداد میں گراوٹ آئی ہے۔ موجود ہ وقت میں کافی تعداد میں بیڈ خالی ہیں۔ مریض نہ ملنے کے سبب ہوٹل منیجر مسلسل سرکار اور ضلع انتظامیہ سے اپنے ہوٹل کو چھوڑ دینے کی مانگ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریض نہ ملنے کے سبب ان کا خرچ نہیں نکل رہا ہے۔

دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے جون کے آخر میں دہلی میں سوا دو لاکھ اور جولائی کے آخرتک ساڑھے پانچ لاکھ مریض آنے کے اندیشہ کے سبب بڑے پیمانے پر بندوبسب کیے گئے تھے۔ اس سلسلے میں مرکز نے چھترپور کے بھائی مائنس کے رادھا سوامی ستسنگ بیاس میں دو ہزار بستروں کا سردار ولبھ بھائی پٹیل کووڈ۔19 کیئر سنٹر بنایا تھا۔ اس کے علاوہ آٹھ ہزار بستروں کے بندوبست کے لئے پانچ سو ریلوے کوچ دیئے گئے تھے۔

اروند کیجریوال نے کورونا کی جانچ کے موجودہ رہنما خطوط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی مریض کا اینٹیجن ٹیسٹ نگیٹو ہے لیکن علامات ہیں تو اس کا آر ٹی ۔پی سی آر ٹیسٹ کیا جانا چاہیے۔ ان رہنما خطوط پر سختی سے عمل کرنے کو یقینی بنانے کے لئے حکام کو ہدایت دی گئی ہے۔

دہلی کے وزیر صحت کی طرف سے منگل کے روز جاری بلیٹین کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نئے معاملے 1056 رہے اور دہلی میں متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 32 ہزار 275 پہنچ گئی ہے۔ دہلی میں صحتیابی کی شرح بھی بڑھ کر 88.83 فیصد ہوگئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 3881 ہے۔

next