مظفر نگر میں ’راجپوتانہ گڑھ‘ کا بورڈ لگانے پر تنازعہ بڑھا، چوہان کی ضد کے باوجود پولیس نے نہیں ہونے دی مہاپنچایت

رتن پوری وہ علاقہ ہے جہاں کے ایک گاؤں میں تین ماہ پہلے بھیم آرمی کے بانی چندرشیکھر آزاد کے جلسہ میں شامل گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور اس معاملے نے ماحول کافی خراب کر دیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>یوپی پولیس</p></div>

یوپی پولیس

user

آس محمد کیف

مظفر نگر کے رتن پوری تھانہ حلقہ کے بھوپ کھیڑی گاؤں میں ہورڈنگ اور بورڈ کی سیاست کبھی بھی بڑا ہنگامہ پیدا کر سکتی ہے۔ مظفر نگر پولیس نے کرنی سینا کے ذریعہ طلب کی گئی مہاپنچایت تو رد کروا دی ہے لیکن کشیدگی اب بھی قائم ہے۔ بھوپ کھیڑی گاؤں میں کثیر تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے۔ ٹھاکر اور دلت اکثریتی علاقوں میں اس تعلق سے کئی طرح کی باتیں شروع ہو گئی ہیں۔ دو ہفتہ سے ’راجپوتانہ گڑھ‘ بورڈ لگوانے کو لے کر چل رہے تنازعہ کے بعد رتن پوری پولیس نے کچھ لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

رتن پوری وہی علاقہ ہے جہاں کے ایک گاؤں میں تین ماہ پہلے بھیم آرمی کے بانی چندرشیکھر آزاد کے جلسہ میں شامل گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور اس معاملے نے ماحول کافی خراب کر دیا تھا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ گاؤں بھوپ کھیڑی کے باہر راجپوت سماج کے لوگ ’راجپوتانہ گڑھ‘ کا بورڈ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے اس طرح کا بورڈ لگا بھی دیا گیا تھا جسے ہنگامہ کے بعد انتظامیہ نے ہٹوا دیا تھا۔ اسی کو لے کر ٹھاکروں نے منگل کو مہاپنچایت بلائی تھی۔ اس میں کرنی سینا کے قومی صدر شیکھر چوہان کے پہنچنے کی خبر تھی، جنھیں گھر پر ہی نظر بند کر دیا گیا۔

مظفر نگر میں ’راجپوتانہ گڑھ‘ کا بورڈ لگانے پر تنازعہ بڑھا، چوہان کی ضد کے باوجود پولیس نے نہیں ہونے دی مہاپنچایت

مقامی باشندہ سریش کمار کے مطابق پولیس کی کارروائی پر گاؤں اور آس پاس کے علاقے کے درجنوں نوجوان اکٹھا ہو کر گاؤں کے باہر رجواہے کی پٹری پر پہنچ گئے۔ وہ بورڈ لگانے پر بضد تھے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے کثیر تعداد میں پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی اور نوجوانوں کو طاقت کے زور پر روک دیا گیا۔ پولیس کے مطابق نظامِ قانون بگاڑنے کی کوشش کرنے والے کچھ نوجوانوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ کھتولی ایس ڈی ایم سبودھ کمار نے بتایا کہ گاؤں میں اس وقت امن ہے اور پولیس تعینات کی گئی ہے۔ انتظامیہ کی ہدایت ہے کہ کسی بھی عوامی اراضی پر کوئی بھی اپنا بورڈ نہیں لگائے گا، نہ ہی کسی طرح کی تعمیر ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ تقریباً دو ہفتہ پہلے رتن پوری تھانہ حلقہ کے بھوپ کھیڑی، مجاہد پور گاؤں کے لوگوں نے گاؤں کے باہر ’راجپوتانہ گڑھ‘ لکھا ہوا بورڈ لگا دیا تھا۔ بورڈ لگانے کے بعد لوگ گھر لوٹ گئے، لیکن گاؤں کے ہی دوسرے سماج کے لوگوں نے پولیس کو بورڈ لگائے جانے کی خبر دے دی۔ اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچی رتن پوری پولیس نے رات میں ہی بورڈ کو اکھاڑ کر گاؤں میں رکھوا دیا تھا۔ وہیں ایک سماج کے لوگوں کو بورڈ اکھاڑے جانے کی خبر ملی تو موقع پر سینکڑوں افراد اکٹھا ہو گئے اور انھوں نے دوسرے طبقہ کے لوگوں پر بورڈ اکھاڑے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ہنگامہ شروع کر دیا تھا۔ بورڈ اکھاڑے جانے کے بعد سے گاؤں میں دو سماج کے درمیان کشیدگی کی حالت بن گئی تھی۔ اس کے بعد خبر ملتے ہی سی او بڈھانہ ونئے گوتم اور تن پوری انسپکٹر پنکج رائے پولیس فورس کے ساتھ گاؤں میں پہنچے۔ انھوں نے دیہی عوام کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ تب سے ایک سماج کے لوگ گاؤں میں بورڈ کو لگائے جانے کی ضد پر اڑے ہیں۔ انتظامیہ نے اجازت لینے کے بعد دو دن میں بورڈ لگائے جانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔


بعد میں ٹھاکر سماج کے لوگوں نے سردھنا کے سابق رکن اسمبلی سنگیت سوم کو فون پر معاملے کی جانکاری دی۔ اس کے بعد سنگیت سوم بھی گاؤں میں پہنچ گئے تھے۔ یہی نہیں، اس معاملے کو لے کر کرنی سینا بھی میدان میں کود گئی جہاں کرنی سینا کے قومی صدر شیکھر چوہان نے بورڈ لگانے کو لے کر گاؤں میں مہاپنچایت کرنے کا اعلان کر ڈالا۔ مہاپنچایت کا اعلان ہوتے ہی انتظامیہ کے افسران میں کھلبلی مچ گئی۔ فوراً مہاپنچایت کو روکنے کے لیے پولیس افسران نے تنظیم کے عہدیداروں سے بات چیت شروع کی۔ پیر کو یہ بات چیت پورے دن چلی، لیکن شام تک کوئی حل نہیں نکل پایا تھا۔

منگل کے روز پولیس انتظامیہ نے گاؤں بھوپ کھیڑی میں مہاپنچایت کو روکنے کے لیے پورا زور لگا دیا۔ انتظامیہ نے صبح سے ہی گاؤں کے چاروں طرف گھیرا بندی کر پولیس تعینات کر دی تھی اور کرنی سینا کے صدر کو گھر میں ہی نظر بند کر دیا۔ گاؤں میں سیکورٹی کے نظریہ سے پی اے سی اور کثیر پولیس فورس کی تعینات کی گئی۔ اعلیٰ افسران بھی موقع پر کیمپ کیے ہوئے تھے۔ گاؤں میں بورڈ لگانے کے تنازعہ نے طول پکڑ لیا ہے۔ بڈھانہ سی او ونئے گوتم کا کہنا ہے کہ مہاپنچایت کے کنوینر کچھ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گاؤں میں کوئی مہاپنچایت نہیں ہوگی، سیکورٹی کے نظریہ سے گاؤں میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ فی الحال گاؤں میں امن بنا ہوا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔