آلودہ پانی معاملہ: اندور کے 59 محلوں میں ہو رہی ’زہر‘ کی سپلائی، آلودگی کنٹرول بورڈ کی رپورٹ میں انکشاف
کانگریس اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعہ بھاگیرتھ میں گندے پانی سے ہوئی اموات معاملہ پر لگاتار مرکزی و مدھیہ پردیش حکومت کو نشانے پر لے رہی ہے۔

صاف صفائی کے معاملہ میں ملک کا ’نمبر 1‘ شہر اندور اس وقت آلودہ پانی پینے سے ہوئی ہلاکتوں کے سبب سرخیوں میں ہے۔ اب مزید ایک تشویش ناک خبر سامنے آئی ہے کہ صرف بھاگیرتھ پورہ علاقہ میں ہی نہیں، بلکہ اندور کے 59 مقامات پر پانی پینے کے لائق نہیں ہے۔ یہ انکشاف آلودگی کنٹرول بورڈ (پی سی بی) کی ایک پرانی رپورٹ میں ہوا ہے۔
آلودگی کنٹرول بورڈ نے میونسپل کارپوریشن کو 3 مرتبہ خط لکھ کر آلودہ پانی کا ذکر کرتے ہوئے متمبہ کیا تھا اور ان علاقوں میں صاف پانی کی سپلائی کرنے کی بات کہی تھی۔ دراصل آلودگی کنٹرول بورڈ نے 17-2016 اور 18-2017 کے دوران شہر کے 60 مقامات سے پانی کا نمونہ لیا تھا۔ ان کی جانچ رپورٹ 2019 میں آئی، جس میں 59 مقامات کے نمونے فیل ہو گئے۔ جانچ میں پانی میں کولیفارم بیکٹیریا ملا، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک مانا جاتا ہے۔ یہ الٹی، دست اور پیٹ درد جیسی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد آلودگی کنٹرول بورڈ نے اندور میونسپل کارپوریشن کو 3 مرتبہ خط لکھ کر آلودہ پانی کی جانکاری دیتے ہوئے متنبہ کیا اور ان علاقوں میں علاج کے بعد ہی پانی کی فراہمی کرنے کی بات کہی۔ اس کے باوجود زمینی سطح پر کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔ بعد ازاں اس معاملے کی جانکاری سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (بھوپال) کو بھی دی گئی۔
اندور کے جن علاقوں میں پانی پینے لائق نہیں ملا، ان میں بھاگیرتھ پورہ، کھاتی پورہ، رام نگر، ناہر شاہ ولی روڈ، کھجرانا، گووند کالونی، شنکر باغ کالونی، پردیشی پورہ، صدر بازار، راج واڑہ، جونی اندور سمیت کئی بڑی آبادی والے علاقے شامل ہیں۔ شہر کے جن مقامات سے نمونے لیے گئے تھے، ان میں سے بیشتر میں کولیفارم بیکٹیریا پایا گیا تھا اور اس کی جانکاری میونسپل کارپوریشن کو وقتاً فوقتاً دی گئی۔
اس درمیان کانگریس اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعہ بھاگیرتھ میں گندے پانی سے ہوئی اموات معاملہ پر لگاتار مرکزی و مدھیہ پردیش حکومت کو نشانے پر لے رہی ہے۔ ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر ایک میم (تصویر) میں دکھایا گیا ہے کہ اندور میں کئی لوگ گندہ پانی پینے سے ہلاک ہو گئے، جبکہ پی ایم مودی صاف پانی پی رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ’مجھے کیا؟ میں تو آر او کا صاف پانی پیتا ہوں‘۔ ایک دیگر پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے ’’بی جے پی حکومت میں نریندر مودی کے نہانے کے لیے فلٹر کا پانی، عوام کے پینے کے لیے گندہ پانی۔‘‘ اس پوسٹ میں ایک تصویر وہ لگائی گئی ہے جب چھٹھ کے موقع پر دہلی میں ایک گھاٹ بنایا گیا تھا جہاں پی ایم مودی پہنچنے والے تھے اور فلٹر کا پانی گھاٹ پر جمع کیا گیا تھا۔ دوسری تصویر ایک برتن میں گندہ پانی دکھائی دے رہا ہے، جو کہ بھاگیرتھ میں پینے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔