ایئر انڈیا کی لاپرواہی پر کنزیومر کورٹ سخت، عائد کیا 1.5 لاکھ روپے کا جرمانہ
عدالت نے کہا کہ ’’جب ایئرلائن مسافروں سے انٹرنیشنل فلائٹ کے لیے زیادہ کرایہ وصول کرتی ہے تو انہیں محفوظ اور باعزت سفر فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔‘‘

دہلی ڈسٹرکٹ کنزیومر کورٹ نے ایئر انڈیا کے خلاف بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ایئرلائن کو 1.5 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ مہنگے ٹکٹ لینے کے باوجود مسافروں کوبنیاد سہولیات نہیں دی گئیں، جو صارفین کے حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے اسے ایئرلائن سروس میں سنگین کوتاہی قرار دیا۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ ستمبر 2023 کا ہے، جب شیلندر بھٹناگر اپنی بیٹی کے ساتھ دہلی سے نیویارک انٹرنیشنل فلائٹ میں سفر کر رہے تھے۔ شکایت کے مطابق طیارہ میں دونوں سیٹیں ٹوٹی ہوئی تھیں اور ریکلائن نہیں ہو رہی تھیں۔ کال بٹن اور اِن فلائٹ انٹرٹینمنٹ سسٹم کام نہیں کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ واش روم گندے اور بدبودار تھے اور کھانے کا معیار بھی انتہائی ناقص بتایا گیا۔
مسافروں کا الزام ہے کہ انہوں کیبن کریو سے کئی بار شکایت کی، لیکن اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ بعد میں ایئر انڈیا کو لیگل نوٹس بھی بھیجا گیا، لیکن کمپنی کی جانب سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد معاملہ دہلی کنزیومر کورٹ تک پہنچا۔ سماعت کے بعد عدالت نے واضح طور پر کہا کہ جب ایئرلائن مسافروں سے انٹرنیشنل فلائٹ کے لیے زیادہ کرایہ وصول کرتی ہے تو انہیں محفوظ اور باعزت سفر فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ ٹوٹی سیٹ، خراب اِن فلائٹ سسٹم اور گندی سہولیات کے ساتھ سفر کرانا صارفین کے حقوق کے خلاف ہے۔
کنزیومر کورٹ نے حکم دیا ہے کہ والد کو 50 ہزار، بیٹی کو 50 ہزار اور مقدمے کے اخراجات کے طور پر 50 ہزار روپے دیے جائیں۔ حالانکہ عدالت نے ٹکٹ کی پوری رقم واپس کرنے کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا، لیکن یہ بھی واضح کیا ہے کہ مسافروں کے وقار اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔