کیجریوال حکومت مزدوروں سے بھروا رہی انگریزی میں فارم ، وصول کیے جا رہے پیسے

دہلی حکومت نے شعبہ تعمیرات سے جڑے مزدوروں کے لیے جو پورٹل شروع کیا ہے، اس پر رجسٹر کرنے کے لیے مزدوروں کو 300 سے لے کر 1000 روپے تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ایشلن میتھیو

دہلی کے تقریباً 4 لاکھ تعمیرات سے جڑے مزدوروں کو اس بحرانی دور میں دوہری مار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ دو مہینے سے وہ بے روزگار ہیں اور انھیں راحت دینے کے نام پر شروع کیے گئے دہلی کی کیجریوال حکومت کے پورٹل پر رجسٹر کرنے کے لیے انھیں 300 سے لے کر 1000 روپے تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس پورٹل پر رجسٹر ہونے کے بعد ہی انھیں دہلی حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ معاشی راحت ملے گی۔

ان مزدوروں میں زیادہ تر بغیر پڑھے لکھے ہیں اور بیشتر کے پاس اسمارٹ فون بھی نہیں ہے۔ ایسے حالات میں وہ سائبر کیفے کا رخ کر رہے ہیں جہاں ان سے مذکورہ فیس وصولی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پورٹل پر ساری جانکاریاں انگریزی میں دینی ہے اور بیشتر اوقات سرور بھی ڈاؤن رہتا ہے۔

غور طلب ہے کہ جمعرات (21 مئی) کو ہی دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ شعبہ تعمیرات سے جڑے مزدوروں کو صرف اس بنیاد پر راحت بند نہیں کی جا سکتی کہ انھوں نے اپنا رجسٹریشن رینیو نہیں کرایا ہے۔ لیکن اس ایشو پر دہلی حکومت خاموش ہے۔ دھیان رہے کہ دہلی کے وزیر محنت گوپال رائے نے 11 مئی کو اعلان کیا تھا کہ بغیر رجسٹریشن والے تعمیراتی مزدوروں کو سرکاری راحت پانے کے لیے رجسٹر کرنا ہوگا اور رجسٹریشن 25-15 مئی تک شروع ہوگا۔ اس کے بعد ویریفکیشن کیا جائے گا تبھی مزدوروں کو راحتی رقم دی جا سکے گی۔

حکومت نے ان مزدوروں کو 5000 روپے دینے کا اعلان کیا ہے، لیکن دہلی حکومت کے پورٹل www.edistrict.delhigovt.nic.in کا سرور عام طور پر ڈاؤن ہی رہتا ہے۔ بہت سے مزدور اس کے سبب اپنا رجسٹریشن نہیں کرا پا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جن مزدوروں نے رجسٹریشن کرایا ہے وہ سائبر کیفے میں کرایا ہے جہاں ان سے پیسے وصولے جا رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دہلی میں ابھی سائبر کیفے کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

بہر حال، پورٹل پر رجسٹر کرنے کے لیے مزدوروں کو اپنا اور اپنی فیملی کا آدھار ڈیٹیل دینا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی اپنی اور اپنی فیملی کی تصویر بھی اَپ لوڈ کرنی ہوتی ہے۔ اپنا موجودہ و مستقل پتہ بھی دینا ہوتا ہے اور جہاں کام کر رہے ہیں وہاں کی جانکاری بھی دینی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں بینک اکاؤنٹ نمبر اور ٹھیکیدار کی جانکاری بھی مہیا کرانی ہوتی ہے۔

جنوب مشرقی دہلی کی ایک جھگی بستی میں رہنے والے راہل نے بتایا کہ "سب سے پہلے تو ہمیں 14 صفحہ کا ایک فارم بھرنا ہے۔ حالانکہ فارم مفت ہے، لیکن اس کے بھی 50 روپے لیے جا رہے ہیں۔ فارم انگریزی میں ہے اس لیے کسی سے اسے بھروانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد اس فارم کو آن لائن اَپ لوڈ کرنا ہوتا ہے۔ کچھ سائبر کیفے چوری چھپے چل رہے ہیں، وہاں جا کر انھیں اَپ لوڈ کرایا جاتا ہے۔" راہل سوال کرتا ہے کہ جب حکومت نے انگریزی میں فارم بنایا اور آن لائن اَپ لوڈ کرنے کو کہا تو وہ کیا سوچ رہی تھی؟" اس کا سوال ہے "اگر میں پڑھا لکھا ہوتا تو کیا مزدوری کرتا؟ رجسٹر کرنے کے لیے مجھے 400 روپے دینے پڑے۔" راہل کے دوست سے تو سائبر کیفے والے نے 1000 روپے لیے۔

اتنا سب ہونے پر بھی بہت سے مزدور رجسٹر نہیں کرا پا رہے ہیں۔ کارپینٹر کے طور پر کام کرنے والے شنکر نے بتایا کہ "رجسٹر کرنے پر او ٹی پی موبائل پر آتا ہے۔ میں کئی دن سے کوشش کر رہا ہوں اور ہر بار پورٹل کہتا ہے کہ میرا فون نمبر غلط ہے۔ میں ہفتہ بھر سے کوشش کر رہا ہوں۔ اب میں کیسے رجسٹر کروں۔ یہ کیا سرکاری مذاق ہے؟" مدن پور کھادر میں رہنے والے شنکر کا کہنا ہے کہ جب سب کچھ بند ہے تو آخر آن لائن رجسٹر کوئی کیسے کرا پائے گا۔

شنکر نے بتایا کہ جب اس نے لیبر منسٹر کے دفتر میں فون کیا تو اس سے بہت ساری جانکاری طلب کی گئی تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ وہ غریب ہے۔ اس نے بتایا کہ اسے نہ تو راشن مل رہا ہے اور نہ ہی رجسٹریشن ہو پا رہا ہے۔ شنکر کے مطابق اس نے پریشانی کا ویڈیو بھی بھیجا لیکن کچھ نہیں ہو پایا۔

انڈین فیڈریشن آف ٹریڈ یونین کے جوائنٹ سکریٹری جے پرکاش بتاتے ہیں کہ "ہم ان مزدوروں کے فارم اپ لوڈ کرنے میں مدد کر رہے ہیں، لیکن سبھی 4 لاکھ مزدوروں کی مدد کر پانا ممکن نہیں ہے۔ ہم نے لیبر کمشنر سے بات کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔" اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً 1.70 لاکھ مزدوروں نے رجسٹریشن کرایا ہے اور پیسہ صرف 40 ہزار مزدوروں کو ہی ملا ہے۔

Published: 23 May 2020, 5:11 PM