تلنگانہ کارپوریشن الیکشن میں کانگریس کی دھماکے دار جیت، بی آرایس دوسرے نمبر پر، بی جے پی کو جھٹکا

وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے نتائج کو کانگریس حکومت کے دوران فلاحی اور ترقیاتی ایجنڈے کی توثیق قراردیا۔ انہوں نے ووٹروں اور پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
i
user

قومی آواز بیورو

ریاست کےاقتدار میں شاندار واپسی کے دو سال بعد کانگریس نے جمعہ کو تلنگانہ کے شہری منظرنامے پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ 11 فروری کو ہونے والے انتخابات میں کانگریس 116 نگر پالیکاؤں میں سے کم از کم 83 اور7 میونسپل کارپوریشنوں میں سے 5 میں کامیابی حاصل کرنے کی راہ ہے ہے۔ وہیں بی جے پی کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ دیر شام تک کانگریس نے منچیریال، راما گنڈم اور نلگنڈہ میونسپل کارپوریشنوں میں اکثریت حاصل کرلی اور 60 رکنی اسمبلی میں 29 سیٹوں کے ساتھ محبوب نگر سیٹ بی آر ایس سے چھیننے کے قریب پہنچ گئی۔ پارٹی کو اپنی حلیف سی پی آئی کی مدد سے کوتھا گوڈیم سیٹ بھی جیتنے کی امید ہے۔

تازہ اعدادوشمار کے مطابق123  شہری بلدیاتی اداروں کے 2,996 وارڈوں میں سے کانگریس نے 1,537 سیٹیں حاصل کی ہیں جو 2020 کے بلدیاتی انتخابات میں حاصل کی گئی سیٹوں سے کافی زیادہ ہیں۔ اس وقت کانگریس صرف 569 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ کانگریس نے دسمبر 2025 کے دیہی انتخابات میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ تر پنچایتوں میں جیت حاصل کی تھی۔


اس موقع پر ریاست کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے تازہ نتائج کو کانگریس حکومت کے گزشتہ دو سالوں کے دوران فلاحی اور ترقیاتی ایجنڈے کی توثیق قرار دیا۔ ووٹروں اور پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مینڈیٹ سے حکومت کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ انہوں نمے کہا کہ اس شاندار فتح کے ساتھ ہم ریاست کی ترقی، عوامی بہبود اور شفاف طرز حکمرانی کے لیے اپنے آپ کو دوبارہ وقف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر میونسپلٹی اور کارپوریشن کو ترقی دیں گے اور عوام کا اعتماد جیتتے رہیں گے۔

بی آر ایس نے 2020 کے انتخابات میں 1,686 وارڈ جیتے تھے۔ اس الیکشن میں بی آر ایس 781 وارڈوں تک محدود ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ بی آر ایس نے 15 میونسپلٹیوں پر قبضہ کیا ہے۔ بی جے پی نے پچھلی بار 293 کے مقابلے اس بار 335 وارڈوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ اے آئی ایم آئی ایم نے پچھلے انتخابات میں 87 کے مقابلے 70 سیٹیں جیتی ہیں۔


واضح رہے کہ کئی شہری بلدیاتی کونسلوں میں معلق مینڈیٹ آیا ہے جس کی وجہ سے شدید سیاسی داؤ پیچ کا ماحول دیکھا جارہا ہے۔ منحرف ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں جس میں پارٹیوں کی جانب سے منتخب اراکین کو ادھر اُدھر کرنے کرنے کی خبریں بھی ہیں۔  سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہری رائے دہندگان نے کانگریس کو فیصلہ کن برتری دی، جبکہ بی ایس پی اور بی جے پی نے سخت مقابلہ کیا۔ ایک سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے نتائج سے ریاستی سطح کے سیاسی مساوات کو نمایاں طور پر تبدیل کرنے کا امکان نہیں ہے، حالانکہ یہ دسمبر 2023 کے اسمبلی انتخابات کے بعد سے بدلتے ہوئے منظر نامے کی عکاسی کرتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔