کانگریس ورکنگ کمیٹی میٹنگ: مودی حکومت کی کمزور خارجہ پالیسی پر سونیا گاندھی کا حملہ

سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہمیشہ مضبوط پوزیشن رہی ہے، لیکن مودی حکومت نے اسے کمزور کر دیا ہے اور چین ہماری کمزوری کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘‘

تصویر ٹوئٹر @INCIndia
تصویر ٹوئٹر @INCIndia
user

قومی آوازبیورو

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر خارجہ پالیسی کو لے کر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کی کمزور پالیسی نے سرحد پر خطرہ پیدا کر دیا ہے اور پی ایم مودی اہم ایشوز پر اپوزیشن کو ساتھ نہ لے کر چلنے پر بضد ہیں۔

آج دہلی میں کانگریس کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز تنظیم ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہمیشہ مضبوط پوزیشن رہی ہے، لیکن مودی حکومت نے اسے کمزور کر دیا ہے اور چین ہماری کمزوری کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘‘ کانگریس صدر نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ چین ہماری سرحد میں داخل ہوا ہے اور وزیر اعظم نے ملک کے لوگوں سے جھوٹ بولا کہ سرحد پر کوئی دراندازی نہیں ہوئی ہے۔


کسانوں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ ملک کے کسانوں اور کسانوں کی تنظیمیں زراعت کے خلاف تین کالے قوانین کے خلاف مسلسل لڑ رہی ہیں، لیکن حکومت اپنے کچھ منتخب سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ان کے مطالبات کو قبول نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے قابل نفرت انگیز عمل ماضی قریب میں لکھیم پور کھیری میں ہوا جہاں کسانوں کو گاڑیوں سے کچل دیا گیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے حکومت کی پالیسی واضح نہیں ہے۔ اس دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت ووٹ کی سیاست کے لیے ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنا کر کام کر رہی ہے۔

کانگریس صدر نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس حکومت کی کمزور پالیسی کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت ابتر ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی عروج پر ہے اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، حکومت اس پر قابو پانے کے لیے کوئی قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔


میٹنگ کے دوران کانگریس صدر نے پارٹی میں کل وقتی صدر کے لیے تنظیمی انتخابات کرانے کا مطالبہ کرنے والے لیڈروں کو منھ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے انہیں 2019 میں جو ذمہ داری سونپی ہے اس میں وہ سب کو ساتھ لے کر چلی ہیں اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے انہوں نے اس ذمہ داری کو بخوبی ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تنظیم میں انتخاب کرانے کا مطالبہ پارٹی میں ہر طرف سے ہو رہا ہے اور سب کے جذبات کے مطابق کانگریس کی مضبوطی کے لیے تنظیمی انتخابات ہونے چاہئیں، لیکن پارٹی کے تمام لیڈران اور کارکنان کو اس سے پہلے متحد ہو کر پارٹی کے مفادات کو سب سے اہم رکھتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سونیا گاندھی نے کہا کہ پارٹی میں تنظیمی انتخابات کرانے یا دیگر امور کو پارٹی کے اندر اٹھایا جانا چاہیے۔ پارٹی کے داخلی امور کو عوامی پلیٹ فارم یا میڈیا کے ذریعہ نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک کل وقتی صدر کے طور پر بخوبی اپنی ذمہ داری ادا کی ہے اور عوامی اہمیت کے مسائل اٹھائے ہیں اور انہیں بغیر سوچے سمجھے نہیں جانے دیا ہے۔ پارٹی کے لیڈران جو بھی کہتے ہیں انہوں نے اس پر توجہ دی ہے، لیکن میڈیا کے ذریعہ کوئی بھی بات ان سے نہیں کی جاسکتی ہے۔


سونیا گاندھی نے کہا کہ کانگریس کو مضبوط بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنے اور ذاتی مفادات سے قطع نظر پارٹی کے مفادات کو سب سے اہم مانتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ہی انہیں عبوری صدر کے طور پر کام کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی اور وہ اس عہدے پر تب سے ذمہ داری سے کام کر رہی ہیں اور انہوں نے سب کو ساتھ لے کر چلنے کوشش کی۔ دلتوں، کسانوں، قبائلیوں، غریبوں، پسماندہ، کمزور طبقات سب کے مدے وہ اٹھاتی رہی ہیں۔

کانگریس صدر نے کہا کہ پارٹی کے تنظیمی انتخابات اس سال جون میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن کورونا وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے یہ انتخابات وقت پر نہیں ہو سکے۔ کورونا کو ہرانے کے لیے ہر ایک کو اس کے لیے مقرر کردہ ضوابط پر عمل کرنا تھا اس لیے انتخابات نہیں ہو سکتے تھے۔ تنظیم میں انتخابات ہونا ہر ایک کا جذبہ ہے لیکن پارٹی رہنماؤں کو اس طرح کے مدے تنظیم کے اندر ہی اٹھانے چاہیے اور پارٹی کے اندر کے مدے میڈیا کے ذریعہ سامنے نہیں آنے چاہیے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔