کانگریس کا وزیرِ اعظم سے منی پور جانے کا مطالبہ، پون کھیڑا نے فلائٹ ٹکٹ شیئر کر کے کہا- ’بس طیارے پر سوار ہو جائیے‘

آسام کے دورے پر موجود وزیرِ اعظم نریندر مودی سے کانگریس نے منی پور جانے کا مطالبہ کیا۔ پون کھیڑا نے گوہاٹی سے امپھال کی فلائٹ ٹکٹ شیئر کر کے طنز کیا کہ بس طیارے پر سوار ہو جائیں، لوگ انتظار کر رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

آسام کے دورے پر پہنچے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر کانگریس نے سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ان سے تشدد سے متاثرہ منی پور کا بھی دورہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طنزیہ پوسٹ شیئر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کو یاد دلایا کہ منی پور گزشتہ دو برس سے بدامنی کا سامنا کر رہا ہے اور حالیہ دنوں میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوئے ہیں۔

پون کھیڑا نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انتخابی ریاستیں اکثر حکومت کی اولین ترجیح بن جاتی ہیں، لیکن منی پور کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست 2023 سے مسلسل تشدد اور عدم استحکام کی لپیٹ میں ہے اور وہاں کے عوام خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کی موجودگی کو ریاست کے عوام کے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔


کانگریس رہنما نے گوہاٹی سے امپھال جانے والی پرواز کی ٹکٹ کی تصویر بھی شیئر کی اور طنزیہ انداز میں کہا کہ سہولت کے لیے ٹکٹ بھی بک کر دی گئی ہے، وزیرِ اعظم کو صرف طیارے میں سوار ہونا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسام سے منی پور کا فاصلہ محض ایک گھنٹے کا ہے، اس لیے وہاں جانا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔

پون کھیڑا نے وزیرِ اعظم کیئرز فنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ اگر وزیرِ اعظم واقعی منی پور کی صورتِ حال کو لے کر سنجیدہ ہیں تو انہیں خود جا کر حالات کا جائزہ لینا چاہیے اور عوام کے درمیان موجودگی درج کرانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ منی پور کے لوگ طویل عرصے سے قیادت کی براہِ راست توجہ کے منتظر ہیں۔

واضح رہے کہ منی پور میں 2023 سے شروع ہونے والی جھڑپوں اور وقفے وقفے سے بھڑکنے والے واقعات کے سبب حزبِ اختلاف مسلسل مرکزی حکومت پر سوال اٹھاتی رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاست میں امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں اور حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بیان بازی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔