چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ پر بضد کانگریس، آج ملک بھر میں احتجاج، کل سی ڈبلیو سی کی میٹنگ

کانگریس کی فرنٹل تنظیموں جیسے مہیلا کانگریس، یوتھ کانگریس، این ایس یو آئی اور سیوادل کو ہدایت دی گئی ہے کہ مسلسل اپنے نئے نئے طریقوں سے احتجاج درج کرائیں۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کے سرکردہ لیڈران کی میٹنگ کا منظر (فائل فوٹو) تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/kharge">@kharge</a></p></div>
i

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو لے کر ان دنوں ملک کی سیاست گرمائی ہوئی ہے۔ ’انڈین ایکسپریس‘ کے انکشاف کے بعد الیکشن کمیشن پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کانگریس سمیت پورا اپوزیشن اس معاملے کو لے کر الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہے۔ کانگریس گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر ملک بھر میں چوطرفہ دباؤ بنانے کی تیاری میں ہے۔ اس کے لیے پارٹی نے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پیر (28 ستمبر) کو ملک کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرس پر کانگریس حکومت اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر احتجاج کرے گی۔ اس میں پارٹی کے تمام لیڈران اور کارکنان شامل ہوں گے۔ دوسری جانب منگل (29 ستمبر) کو صبح 10:30 کانگریس کے ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ ہوگی۔ اس میٹنگ کی صدارت پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کریں گے۔ میٹنگ میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی سمیت پارٹی کے تمام سرکردہ لیڈران شامل ہوں گے۔


اس کے علاوہ بدھ (30 ستمبر) کو چیف الیکشن کمشنر والے معاملے پر انڈیا اتحاد کی مجوزہ میٹنگ ہے۔ یہ میٹنگ بنیادی طور پر مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی پہل پر ہو رہی ہے، جس کی جانکاری ان کی پارٹی نے دی ہے۔ حال ہی میں ممتا بنرجی نے راہل گاندھی سے فون پر بات کی تھی اور ان سے انڈیا اتحاد کی میٹنگ بلانے کی درخواست کی تھی۔ کانگریس کے وزیر اعلیٰ بھی پارٹی کے آفیشیل لائن پر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس کا میڈیا ڈپارٹمنٹ بھی ملک بھر میں پریس کانفرنس منعقد کرے گا۔ اس دوران مبینہ ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر کے مودی حکومت سے جڑے ہونے کے الزامات اٹھائے جائیں گے۔

اس کے ساتھ ہی کیرلم کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن کو گیانیش کمار کی طرف سے مبینہ طور پر انتخاب لڑنے کا آفر دیے جانے کے معاملے کو بھی قومی سطح پر جارحانہ طریقے سے اٹھایا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر انتہائی جارحانہ مہم چلائی جائے گی۔ کانگریس کی فرنٹل تنظیموں جیسے مہیلا کانگریس، یوتھ کانگریس، این ایس یو آئی اور سیوادل کو ہدایت دی گئی ہے کہ مسلسل اپنے نئے نئے طریقوں سے احتجاج درج کرائیں۔ اس درمیان ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل کانگریس گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کا نوٹس جلد ہی دے گی۔


دوسری جانب کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے ’کیرالہ نیوز‘ کا ایک اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’یہ ٹیکا رام مینا ہیں، کیرلم کے سابق چیف الکیٹورل آفیسر۔ انہوں نے گیانیش کمار پر ایس آئی آر کے دوران قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ اگر عوام کو یقین نہیں ہے تو گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے۔‘‘ پوسٹ کی آخر میں انہوں نے لکھا کہ ’’آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے، گیانیش کمار۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔