بی جے پی کے اتحادیوں نے بھی اٹھائے الیکشن کمیشن پر سوال، گیانیش کمار سے خدشات کو دور کرنے کا مطالبہ
بی جے پی کے اتحادی ٹی ڈی پی، ایل جے پی اور قومی لوک مورچہ نے الیکشن کمیشن میں اختلافات اور ایس آئی آر سے متعلق سوالات پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ چراغ پاسوان نے عوامی شکوک دور کرنے پر زور دیا

نئی دہلی: الیکشن کمیشن میں مبینہ اختلافات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کام کرنے کے طریقے سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے درمیان اب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اتحادی جماعتوں نے بھی الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی ہے۔ تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی)، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) اور راشٹریہ لوک مورچہ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر سمیت مختلف معاملات پر پیدا ہونے والے عوامی شکوک و شبہات کو دور کرنا چاہیے۔
مرکزی وزیر اور ایل جے پی (رام ولاس) کے صدر چراغ پاسوان نے جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک آزاد آئینی ادارے، الیکشن کمیشن، پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا موقف واضح کریں۔ ان کے مطابق اگر لوگوں کو انتخابی عمل پر ہی شک ہونے لگے تو یہ تشویش کی بات ہے۔ پاسوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنا موقف کسی سیاسی رہنما کے سامنے نہیں بلکہ عوام کے سامنے واضح کرنا چاہیے تاکہ ان کے ذہنوں میں موجود شکوک دور ہوں۔
مرکز میں بی جے پی کی اتحادی ٹی ڈی پی نے بھی الیکشن کمیشن سے وضاحت اور شفافیت برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ لوک سبھا میں ٹی ڈی پی کے فلور لیڈر لاؤ سری کرشن دیورایالو نے کہا کہ آندھرا پردیش میں ایس آئی آر کا عمل شفاف طریقے سے کیا گیا، لیکن الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کی ذمہ داری اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ادارے کے بارے میں سوال اٹھیں تو مناسب وضاحت اور شفافیت سے ہی عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا۔
راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ اور راجیہ سبھا رکن اوپیندر کشواہا نے بھی الیکشن کمیشن سے موجودہ صورتحال پر وضاحت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک جو کچھ سامنے آیا ہے، اس سے الیکشن کمیشن کے کام کاج سے متعلق سوالات پیدا ہوئے ہیں اور کمیشن کو اٹھائے گئے خدشات پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔
یہ معاملہ اس رپورٹ کے بعد زیادہ نمایاں ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ ایسے فیصلوں اور احکامات پر اعتراضات ریکارڈ کرائے جو ان کے مطابق ان کی معلومات یا منظوری کے بغیر لیے گئے تھے۔ ان اعتراضات میں ووٹر فہرستوں میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے، فارم 6 میں تبدیلی، انتخابی ڈیٹا بیس تک رسائی اور مغربی بنگال میں اپیلوں سمیت مختلف معاملات شامل تھے۔
الیکشن کمیشن نے تاہم اندرونی اختلافات کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس آئی آر سمیت اس کے تمام فیصلے تینوں کمشنروں کی منظوری سے لیے گئے اور کمیشن میں اختلاف رائے کو معمول کی فیصلہ سازی کا حصہ قرار دیا۔ کمیشن کے مطابق تحریری نوٹس، تجاویز اور تکنیکی تبصرے ادارے کے اندرونی نظام کا حصہ ہیں۔
ادھر جنتا دل یونائیٹڈ کے ترجمان راجیو رنجن نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزامات درست ہیں تو اپوزیشن نے اب تک باضابطہ شکایت کیوں نہیں درج کرائی۔ انہوں نے ایس آئی آر پر اٹھنے والے اعتراضات کے پس منظر میں باضابطہ شکایت کی ضرورت پر زور دیا۔ ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے کام کاج سے متعلق کئی معاملات پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں اور مختلف درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں۔
