کرناٹک میں کانگریس نے ’پرجا دھونی یاترا‘ کا کیا آغاز، 200 یونٹ بجلی مفت دینے کا وعدہ

پروگرام کو ’گرہ جیوتی یوجنا‘ نام دیتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ضروری اشیا کی بڑھتی قیمتوں اور بے روزگاری کے ایشو کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ کرناٹک میں ایسی حکومت بنے جو عوامی فلاح پر توجہ دے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر&nbsp;<em>@DKShivakumar</em></p></div>

تصویر@DKShivakumar

user

قومی آوازبیورو

کرناٹک میں کانگریس نے بدھ کے روز اپنی بس ریلی ’پرجا دھونی‘ (عوام کی آواز) کا آغاز کیا اور گھروں میں ہر ماہ 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا۔ دراصل کرناٹک میں بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو ظاہر کرنے اور 2023 کے اسمبلی انتخاب کو جیتنے کی مہم کے تحت کانگریس کے سینئر لیڈران بس سے یاترا کریں گے اور اس دوران 20 اضلاع کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس یاترا کا آغاز ہو گیا ہے جسے ’پرجا دھونی یاترا‘ بھی کہا جا رہا ہے۔

کانگریس نے اپنے پروگرام کو ’گرہ جیوتی یوجنا‘ کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ ضروری اشیاء کی بڑھتی قیمتوں اور بے روزگاری کے ایشو کے ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ کرناٹک میں ایک ایسی حکومت بنے جو عوام کی فلاح کے بارے میں سوچے۔


آج اے آئی سی سی ریاستی انچارج جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا، کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار، اسمبلی میں حزب مخالف لیڈر سدارمیا نے ویرا سودھا اسمارک سے شروع کی گئی بس یاترا میں حصہ لیا۔ یہ پروگرام 1924 میں کانگریس کے یادگار اجلاس کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سال کی پہلی چھ ماہی میں ریاست میں اسمبلی انتخاب ہونا ہے۔ اس کے پیش نظر کانگریس لیڈران نے کرناٹک میں بومئی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے خلاف اپنی لڑائی تیز کر دی ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ ’’بی جے پی نے اقتدار میں ساڑھے تین سال کی مدت کار کے دوران کرناتک کی شبیہ خراب کر کے رکھ دی ہے۔ ہم عوام سے اس حکومت کو ہٹانے میں مدد کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ کانگریس کی بس یاترا پارٹی لیڈر راہل گاندھی کی حال ہی میں ان کی بھارت جوڑو یاترا کے حصے کی شکل میں دیکھی جا رہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے کہا ہے کہ بس یاترا کا مقصد بی جے پی حکومت کے جھوٹ کا پردہ فاش کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی حکومتوں سے ناخوش ہیں۔ ہم صرف ان کے جذبات کو آواز دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں۔ بہرحال، میڈیا رپورٹس کے مطابق بس ریلی شام کو بیلگاوی لوٹنے سے پہلے چکوڈی سے ہوکر گزری۔ اب بدھ کی شب دیگر اضلاع کے لیے بھی بسیں روانہ ہوں گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔