مہاراشٹر میں پادری کی گرفتاری پر کے سی وینوگوپال برہم، ’بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں عیسائیوں کو بنایا جا رہا نشانہ‘

مہاراشٹر میں کیرالہ کے پادری کی گرفتاری پر کے سی وینوگوپال نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے معاملہ پر بی جے پی حکومت پر تنقید کی

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے تنظیمی جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے مہاراشٹر میں کیرالہ کے ایک عیسائی پادری کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں عیسائی برادری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کے سبب منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے پادری کی فوری رہائی اور ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ بدھ کے روز مہاراشٹر کے ضلع امراوتی میں پولیس نے کیرالہ سے تعلق رکھنے والے پادری فادر سدھیر ولیم کو چار خواتین سمیت سات افراد کے ساتھ گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ وہ لوگوں کو عیسائیت اختیار کرنے کے لیے مالی ترغیبات کی پیشکش کر رہے تھے اور اس عمل سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔

اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ صرف اپنے مذہب پر عمل کرنے کی وجہ سے عیسائیوں کو بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں منتخب انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناگپور میں ایک عیسائی پادری کی گرفتاری نہایت قابل اعتراض ہے اور یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ جہاں بھی بی جے پی اقتدار میں ہے وہاں ریاستی مشینری کو مبینہ مذہب تبدیلی کے بہانے اقلیتی برادریوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

کانگریس رہنما نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی کا مذہبی انتہا پسندی اور سماجی تقسیم پر مبنی ایجنڈا مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بی جے پی کے زیر اقتدار علاقوں میں اقلیتوں کے لیے روزمرہ زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل ملک کے آئینی اصولوں اور مذہبی آزادی کے منافی ہے۔


وینوگوپال نے اس معاملے میں بجرنگ دل کے کارکنان پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مبینہ غنڈہ گردی کے باعث یہ واقعہ سامنے آیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پادری کے خلاف مقدمہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سزا ان لوگوں کو ملنی چاہیے جو آئین میں درج سیکولر اقدار کو نقصان پہنچاتے ہیں، نہ کہ ان شہریوں کو جو پرامن طریقے سے اپنے مذہبی حقوق کا استعمال کر رہے ہیں۔ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو پارلیمانی اور عوامی سطح پر اٹھاتی رہے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔