جموں و کشمیر جانے کی سب کو چھوٹ ملنی چاہیے: کانگریس

کانگریس ترجمان نے کہا کہ گورنر کو طنز کرنے کے بجائے اس بات کو یقین بنانا ضروری ہے کہ اپوزیشن کے لیڈر آزادی کے ساتھ وہاں جا کر لوگوں سے بات چیت کریں اور وہاں ہونے والی پریشانیوں کو سمجھیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی:کانگریس نے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کے بعد ذرائع ابلاغ کے بند ہونے اور وہاں اہم رہنماؤں کو نظربند کرنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں کی اصل صورت حال کی معلومات کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کے ساتھ ہی سب کو وہاں جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اپوزیشن کے لیڈر کو وہاں جانے سے روکا گیا ہے اور گزشتہ نو دنوں سے وہاں کے حالات کیا ہیں اس سلسلے میں کسی کو کوئی خبر نہیں ہے۔ ریاست میں عام لوگوں کے لئے مواصلات کے تمام ذرائع بند ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مرکز اور ریاست کی مخلوط حکومت میں شامل رہے نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈروں کو نظربند کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ ان لیڈروں کو نظربند کیا جانا چاہیے تھا لیکن حکومت نے یہ قدم اٹھا کر لوگوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما گلام نبی آزاد کو وہاں جانے سے روکا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حالات کو معمول میں لانے کے لئے سیاسی بات چیت کی سخت ضرورت ہے۔

کانگریس ترجمان نے کہا کہ سابق کانگریس صدر راہل گاندھی کو گورنر ستیہ پال ملک نے ہوائی جہاز بھیج کر وہاں آنے کے لئے مدعو کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو طنز کرنے کے بجائے اس بات کو یقین بنانا ضروری ہے کہ اپوزیشن کے لیڈر آزادی کے ساتھ وہاں جا کر لوگوں سے بات چیت کریں اور وہاں ہونے والی پریشانیوں کو سمجھیں۔ ذرائع ابلاغ کو وہاں جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔