ویڈیو جاری کر کانگریس نے ’نوٹ بندی‘ کو ثابت کیا ’ایک بڑا گھوٹالہ‘

ویڈیو میں بی جے پی دفتر میں تعینات ایک کارکن امت شاہ کی تصویر لہراتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ ڈرنے کی بات نہیں ہے، 100 ، 200 یا 500 کروڑ جتنے بھی ہیں سب بدلے جائیں گے اور کسی کا بال بھی بانکا نہیں ہوگا۔

کپل سبل
کپل سبل

قومی آوازبیورو

کانگریس پارٹی نے ایک بار پھر نوٹ بندی کے دوران ہوئے گھوٹالے کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے۔ دہلی کے کانگریس صدر دفتر میں کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ویڈیو نوٹ بندی نافذ ہونے کے بعد 4، 5، 6، 9 مارچ 2017 کے درمیان کے ہیں۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سے سینکڑوں کروڑ روپے نوٹ بندی کے دوران بدلے گئے۔‘‘ ویڈیو میں باقاعدہ پرانے نوٹوں کو بدلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سبل نے کہا کہ ’’اس گھوٹالے میں بی جے پی کے لیڈر اور کئی بڑے افسر اور سابق بینکر شامل تھے۔ اس طرح یہ ثابت ہو گیا کہ نوٹوں کی منسوخی ملک کا سب سے بڑا گھپلہ ہے۔‘‘ کانگریس کا کہنا ہے کہ جس طرح کے انکشافات ہو رہے ہیں اس کے پیش نظر وسیع جانچ ہونی چاہیے۔

پریس کانفرنس کے دوران ویڈیو میں دکھایا گیا کہ گجرات کے بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں بی جے پی لیڈر لوگوں سے پرانے نوٹ بدلنے کے لیے امت شاہ کے نام پر ڈیل کر رہا ہے۔ اس بی جے پی لیڈر کے دفتر کو بھی دکھایا گیا ہے جہاں پر پرانے اور نئے نوٹ بریف کیس میں رکھے ہوئے تھے۔ کانگریس لیڈر کپل سبل نے دعویٰ کیا کہ وہ بی جے پی لیڈر پارٹی صدر امت شاہ کا نام لے کر یہ سب کچھ کر رہا تھا۔ کئی ہوٹلوں میں سینکڑوں کروڑ روپے بدلے گئے۔ اس ویڈیو میں ہوٹل میں پرانے نوٹوں کو بدلتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔

کپل سبل نے ایک دوسرا ویڈیو بھی میڈیا کو دکھایا جس میں نوٹ بندی کے دوران ممبئی میں وزیر زراعت کے دفتر میں اس وقت کے ڈی سی پی واڈیکر کچھ لوگوں کو لے کر پہنچے تھے جہاں پر پرانے نوٹوں کو بدلنے کی ڈیل ہوئی تھی۔ کپل سبل نے کہا کہ نوٹ بندی کے دوران بی جے پی نے بڑے پیمانے پر پرانے نوٹ 15 سے 40 فیصد کمیشن لے کر بدلوائے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس ویڈیو سے ساری سچائی سامنے آ گئی ہے۔ باوجود اس کے مودی حکومت کسی کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی اور حکومت کے لوگ اور افسران اس گھوٹالے میں شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت نے ان معاملوں میں جانچ تک کے حکم نہیں دیئے۔

کپل سبل نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسی اسٹنگ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پرانے نوٹوں کی ادلا بدلی کے دوران گڑبڑی کرنے کے شبہ میں کابینی سکریٹریٹ میں تعینات ایک ملازم کو برخاست کیا گیا۔ یہ ملازم پانچ سال سے اپنی خدمات دے رہا تھا لیکن جون 2017کو اسے اچانک ملازمت سے ہٹایا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس ملازم کو کس بنیاد پر ہٹایا گیا اور کیا اسے ہٹانے سے پہلے وجہ بتاؤ نوٹس دیا گیا تھا۔ اگر نوٹس دیا گیا تھا تو اس میں کیا لکھا تھا، اس کا بھی انکشاف ہونا چاہیے۔

کانگریس لیڈر نے مزید کہاکہ نوٹوں کی منسوخی کے بعد جو انکشافات ہوئے ہیں ان سے واضح ہے کہ پرانے نوٹوں کو غیرقانونی طریقہ سے بدلے جانے کا کام بی جے پی کے بڑے لیڈروں کے اشارے پر ہوا ہے۔ اسٹنگ میں بی جے پی دفتر میں تعینات ایک کارکن بی جے پی کے صدر امت شاہ کی تصویر لہراتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ ڈرنے کی بات نہیں ہے، سو ، دو سو یا پانچ سو کروڑ جتنے بھی ہیں سب بدلے جائیں گے اور کسی کا بال بھی بانکا نہیں ہوگا۔

کپل سبل نے کہاکہ نوٹوں کی منسوخی کے بعد نہ صرف لاکھوں لوگوں کی ملازمت گئی بلکہ عام آدمی کے پیسے کو لوٹا گیا ہے۔ جب ملک کے عام لوگ بینکوں میں جمع اپنے پیسے کا معمولی حصہ پانے کے لئے لائن میں کھڑے تھے اور کئی لوگ دم توڑ رہے تھے اس دوران غیرقانونی طریقہ سے نوٹوں کو بدلہ جارہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹنگ سے واضح ہے کہ نوٹوں کی منسوخی کے بہانے غریب عوام کے کروڑ روں روپے پر ڈاکے پڑ رہے تھے۔ بینکرس بتا رہے تھے کہ کس طرح سے نوٹوں کو بدلنے کے کھیل کو انجام دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے پیچھے کی حقیقت کیا تھی یہ ملک کے عوام کے سامنے آنی چاہیے۔ نوٹوں کی منسوخی دہشت گردی کا خاتمہ کرنے، بلیک منی پر روک لگانے یا غریبوں کے پیسے کی لوٹ کے لئے اٹھایا گیا قدم تھا اس کا انکشاف ہونا چاہیے۔

کانگریس کے لیڈر نے اسے قومی لوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب اس پر حقائق کے ساتھ انکشافات ہورہے ہیں تو حکومت اس میں شامل لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کیوں نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں احمد آباد کے بی جے پی دفتر میں بیٹھ کر جو کارکن امت شاہ کی تصویر لہراکر نوٹ بدلنے کے لئے کہہ رہا تھا وہ کہاں ہے اور اس کو دو سال سے اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ جتنے اسٹنگ ہوئے ہیں ان سے واضح ہے کہ اس کام کے لئے 15سے 40فیصد تک کمیشن دیا گیا اور لوگوں کے پیسے پر منظم طریقہ سے ڈاکہ ڈالا گیا۔ اس کھیل میں کروڑوں کے پرانے نوٹ بدلے گئے لیکن کوئی بھی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔