چین کا اروناچل پردیش میں 4.5 کلو میٹر زمین پر قبضہ، حکومت سچ کا اعتراف کب کرے گی: کانگریس

کانگریس نے چین کے ذریعہ ہمارے ملک میں دراندازی کا ایشو ایک بار پھر اٹھایا ہے، کانگریس نے پنٹاگن کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے دراندازی کی تصدیق کر دی ہے۔

پون کھیڑا، تصویر آئی اے این ایس
پون کھیڑا، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

چین نے ہندوستانی علاقہ میں کافی اندر تک دراندازی کر لی ہے، لیکن مرکز کی مودی حکومت اس سے لگاتار انکار کر رہی ہے۔ اب تو امریکی محکمہ دفاع پنٹاگن کی رپورٹ نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے کہ چین نے ہندوستان کے اروناچل پردیش علاقہ میں تقریباً 4.5 کلو میٹر گہرائی تک دراندازی کر لی ہے۔ یہ الزام کانگریس نے ہفتہ کے روز ایک پریس کانفرنس عائد کیا۔

کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے دہلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب پنٹاگن کے ذریعہ امریکی کانگریس کو ایک سالانہ رپورٹ دی گئی ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ چین نے ہمارے علاقے میں اروناچل پردیش کے اندر 4.5 کلو میٹر گہری دراندازی کی ہے۔‘‘ پون کھیڑا نے کہا کہ چین نے ایل اے سی کے پار ایک گاؤں تیار کیا ہے۔ انھوں نے کئی گاوؤں کی تعمیر کی ہے اور یہ دوہرے مقاصد، استعمال والے گاؤں ہیں۔ دوہرا استعمال والا گاؤں کیا ہے؟ اس میں نہ صرف شہری آبادی رہتی ہے بلکہ یہ گاؤں چینی فوج کے لیے چھاؤنی کی شکل میں بھی کام کر سکتے ہیں۔


کانگریس ترجمان نے کہا کہ ’’پنٹاگن کی رپورٹ کے مطابق چین نے ہمارے علاقے میں تقریباً 4.5 کلو میٹر کے اندر 101 ڈھانچوں کی تعمیر کی ہے۔ ان میں سے کچھ کثیر منزلہ ڈھانچے ہیں اور یہ ایک بہت ہی سنگین ایشو ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعظم کو سب سے پہلے اس کلین چٹ کو واپس لینا چاہیے اور ملک کو ایک مدت کار دینی چاہیے کہ چین کے ساتھ ہماری سبھی سرحدوں پر اپریل 2020 کی حالت کب بحال ہوگی؟ چاہے دیپسانگ ہو، گوگرا ہاٹ اسپرنگ ہو یا ڈی او بی سیکٹر، چاہے وہ اروناچل پردیش ہو، ہمیں جواب چاہیے، ہمیں ڈیڈ لائن چاہیے، ہمیں تاریخوں کی ضرورت ہے اور دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے ہمیں معافی کی ضرورت ہے کہ چین نے ہمارے علاقے میں قدم نہیں رکھا ہے۔‘‘

پون کھیڑا نے کہا کہ ’’جون 2020 میں اروناچل پردیش (مشرق) سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تاپیر گاؤ نے اس ایشو پر وزیر اعظم، وزیر دفاع، وزیر خارجہ کو خط لکھا تھا۔ انھوں نے اس ایشو کو پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا تھا اور حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے پورے ملک کو چین کے ذریعہ اروناچل پردیش کے علاقے میں کیے گئے قبضوں کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔ لیکن حکومت نے ایک وضاحت جاری کر اس طرح کی کسی بھی خلاف ورزی سے انکار کیا تھا۔‘‘


کانگریس نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کے ذریعہ چین کو کلین چٹ دیے 17 مہینے ہو چکے ہیں۔ وہ کلین چٹ ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، کیونکہ چین اس کلین چٹ کا استعمال دنیا بھر میں کر رہا ہے، کیونکہ وہ کلین چٹ ہندوستان کے وزیر اعظم کے علاوہ کسی اور نے نہیں دی ہے، جن کے علاقے میں چین کے ذریعہ تجاوزات کیا جا رہا ہے۔ اس کلین چٹ سے چین کا حوصلہ بڑھا ہے۔‘‘ پون کھیڑا آگے کہتے ہیں کہ ’’نہ صرف اروناچل پردیش میں، نہ صرف لداخ میں، نہ صرف گوگرا-ہاٹ اسپرنگس میں، نہ صرف دیپسانگ میں، بلکہ اتراکھنڈ میں بھی، جیسا کہ ہم نے گزشتہ مہینے ایک پریس کانفرنس کے دوران تذکرہ کیا تھا، پی ایل اے نے قدم رکھا، ہمارے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا اور چلا گیا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔