کانگریس نے 2023 میں 146 ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی دلائی یاد، جے رام رمیش نے کہا- ’تاریخ خود کو نہ دہرائے‘

کانگریس رہنما جے رام رمیش نے 2023 میں 146 ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ موجودہ مانسون اجلاس میں اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی تاریخ دوبارہ نہ دہرائی جائے

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

کانگریس نے پارلیمنٹ کے 2023 کے سرمائی اجلاس کے دوران اپوزیشن کے 146 ارکان کی ریکارڈ معطلی کو یاد کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ مانسون اجلاس کے آخری ہفتے میں ایسا واقعہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے کہا ہے کہ تاریخ خود کو نہیں دہرانا چاہیے۔

جے رام رمیش نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں 13 دسمبر 2023 کو پارلیمنٹ کی سکیورٹی میں ہونے والی بڑی چوک کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس روز دو افراد نعرے لگاتے ہوئے اور کنستروں سے پیلا دھواں چھوڑتے ہوئے ناظرین کی گیلری سے لوک سبھا کے ایوان میں کود گئے تھے۔ اسی دوران پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر دو دیگر افراد نے بھی کنستروں سے رنگین دھواں چھوڑا تھا۔

کانگریس رہنما نے اس واقعے کو پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں چونکا دینے والی اور سنگین چوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے مرکزی وزیر داخلہ سے بار بار اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بیان دینے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن ان کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی اس وقت بھی برقرار رہی جب گزشتہ ماہ دہلی پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے معاملات میں پارلیمنٹ کے سامنے جواب دینا چاہیے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 14 دسمبر سے 21 دسمبر 2023 کے درمیان لوک سبھا کے 100 اور راجیہ سبھا کے 46 ارکان سمیت مجموعی طور پر 146 ارکان کو معطل کیا گیا تھا۔ یہ پارلیمانی تاریخ میں اپوزیشن ارکان کی معطلی کی ریکارڈ تعداد تھی۔


کانگریس رہنما کے مطابق، اتنی بڑی تعداد میں اپوزیشن ارکان کی معطلی کے بعد اجلاس کی باقی کارروائی کے دوران ایوان میں اپوزیشن کی موجودگی انتہائی محدود رہ گئی تھی اور کئی اہم بل منظور کر لیے گئے تھے۔ انہوں نے خاص طور پر تین نئے فوجداری قوانین کا ذکر کیا، جنہیں لوک سبھا نے 20 دسمبر اور راجیہ سبھا نے 21 دسمبر 2023 کو منظوری دی تھی۔ ان قوانین میں بھارتیہ نیائے سنہتا، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا اور بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم شامل ہیں، جنہوں نے بالترتیب انڈین پینل کوڈ، ضابطۂ فوجداری اور انڈین ایویڈنس ایکٹ کی جگہ لی۔

جے رام رمیش نے اسی دور میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری، سروس کی شرائط اور مدت سے متعلق بل کی منظوری کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا یہ بیان موجودہ مانسون اجلاس کے آخری ہفتے سے قبل سامنے آیا ہے۔ اس دوران غیر ملکی عطیات (ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026 سمیت کئی اہم قانون سازی پر بحث متوقع ہے۔

دریں اثنا، کانگریس نے جمعہ کو اپنے لوک سبھا اور راجیہ سبھا ارکان کو وہپ جاری کرتے ہوئے 10، 11 اور 12 اگست کو ایوان میں لازمی طور پر موجود رہنے کی ہدایت دی ہے۔ پارٹی نے ان دنوں کو ’’بہت اہم‘‘ قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس نے اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے تمام اتحادیوں سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے تمام ارکان کی ان تینوں دنوں میں ایوان میں موجودگی یقینی بنائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔