مردم شماری اور حد بندی کے بغیر ’ناری وندن ایکٹ‘ کے نفاذ پر کانگریس نے اٹھائے سوال
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں جے رام رمیش نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق اب ’مودی کوڈ آف کیمپیننگ‘ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اپریل میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ’ناری وندن ایکٹ 2023‘ کے حوالے سے مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں اپنے ’ایکس‘ پوسٹ میں کہا کہ حکومت نے 30 ماہ بعد اچانک موقف بدلتے ہوئے حد بندی اور اور مردم شماری کے بغیر ہی خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جبکہ پہلے اسی عمل کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔
جے رام رمیش نے بتایا کہ ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ کی نئی تعمیر کے افتتاح کے دوران ’ناری وندن ایکٹ‘ منظور کیا گیا تھا۔ اس کے تحت لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن اور درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کی محفوظ سیٹوں میں بھی ایک تہائی ریزرویشن کا التزام کیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس وقت واضح کیا گیا تھا کہ یہ نظام حد بندی اور مردم شماری مکمل ہونے کے بعد ہی نافذ کیا جائے گا۔
کانگریس لیڈر کے مطابق جب اس بل پر بحث ہو رہی تھی، تب پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ اسے 2024 لوک سبھا انتخاب سے نافذ کیا جائے، لیکن حکومت نے اسے ناممکن قرار دیا تھا۔ اب حکومت نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پر الزام عائد کیا کہ وہ ’عوامی توجہ بھٹکانے والے ہتھیاروں‘ (ڈبلیو ایم ڈی) کا استعمال کرتے ہیں اور یہ قدم بھی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں، ایل پی جی اور توانائی بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ حکومت اگلے پندرہ دنوں میں ’ناری وندن ایکٹ‘ میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کا 2 روزہ خصوصی اجلاس بلانے کا اشارہ دے رہی ہے۔ اس پر اپوزیشن جماعتوں نے خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ پہلے 29 اپریل کو جاری اسمبلی انتخابات کے بعد ایک کل جماعتی اجلاس بلایا جائے تاکہ مجوزہ ترامیم پر بحث ہو سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت لوک سبھا اور اسمبلی کی سیٹوں کی تعداد میں 50 فیصد تک اضافے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ضروری ہے۔
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں جے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق اب ’مودی کوڈ آف کیمپیننگ‘ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اپریل میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے اپریل 2025 میں اعلان کردہ ذات پر مبنی مردم شماری کے حوالے سے حکومت کے عزم پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ پہلے اس مسئلے کو اٹھانے پر کانگریس رہنماؤں کو ’اربن نکسل‘ کہا گیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔