کانگریس نے کورونا ویکسین کی قیمت اور اس کی برآمد پر اٹھائے سوال

سرجے والا نے ویکسین کی قیمت اور اس کی برآمد میں شفافیت اخیتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سبھی کے لیے کورونا ویکسین حکومت کی پالیسی ہونی چاہیے اور ملک کے عوام کی مفت ٹیکہ کاری ہونی چاہیے۔

کورونا ویکسین / تصویر یو این آئی
کورونا ویکسین / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے کورونا کے علاج کے لیے ریکارڈ وقت میں ویکسین بنانے پر ہندوستانی سائنسدانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ملک کو ان کا مقروض قرار دیا, لیکن حکومت سے پوچھا کہ وہ ٹیکے مہنگی شرح پر کیوں فروخت کر رہی ہے اور سب کی ٹیکہ کاری کیے بغیر کس بنیاد پر اس کی برآمد کو اجازت دے رہی ہے۔

کانگریس میڈیا سیل کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے اتوار کے روز یہاں خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ پورا ملک اپنے سائنسدانوں، کیمسٹ اور محققین کی صلاحیت، عزم محکم اور ان کی انتھک محنت کو سلام کرتا ہے کہ انہوں نے ریکارڈ وقت میں کورونا وبا کی تباہی سے لڑنے کے لیے ہندوستان میں ٹیکہ تیار کیا۔ اس مقصد سے پورا ملک ان کا مقروض ہے اور ہمیں اپنے سائنس دانوں پر فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکہ آ گیا لیکن حکومت اسے مہنگی شرح پر فروخت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کوویشیلڈ‘ ایک ’ایسٹرازینیکا ویکسین‘ ہے جسے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے بنایا ہے۔ یہ ویکسین حکومت ہند کو 200 روپیے فی خوراک کی شرح سے دے کر منافع کما رہی ہے جبکہ بیلجیئم کے وزیر ایوا ڈے بلیکر کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں اس ایسٹرازینیکا ویکسین کی قیمت انڈین کرنسی میں 158 روپیے ہے۔

ترجمان نے سوال کیا کہ حکومت ہند ایسٹرازینیکا ویکسین کے لیے زیادہ رقم یعنی 200 روپیے کیوں لے رہی ہے۔ اسی طرح سے ویکسین کی قیمت کھلے بازار میں ایک ہزار روپیے بتایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خود سیرم انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او اَدَر پونہ والا نے 11 جنوری کو واضح طور پر کہا تھا کہ ’کوویشیلڈ ویکسین‘ کھلے بازار میں 1000 روپیے فی خوراک میں فروخت کریں گے یعنی کسی شخص کو کورونا ٹیکہ کے لیے ضروری دو خوراکوں کی قیمت دو ہزار روپیے دینا ہوگی۔

سرجے والا نے ٹیکہ کی برآمد کی اجازت دینے پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ ہندوستان سے برازیل کو اس ویکسین کی 20 لاکھ خوراک کی برآمد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پوری آبادی کو ٹیکہ لگائے جانے سے قبل ویکسین کی برآمد کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی ہے۔

انہوں نے ویکسین کی قیمت اور اس کی برآمد میں شفافیت اخیتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سبھی کے لیے کورونا ویکسین حکومت کی پالیسی ہونی چاہیے اور ملک کے عوام کی مفت ٹیکہ کاری ہونی چاہیے۔ ’آتم نربھر بھارت‘ کے حوالے سے سرجے والا نے کہا کہ ملک نے خود کفیلی 4-6 سالوں میں حاصل نہیں کی ہے۔ یہ آزادی کے بعد 73 سال کی محنت کا نتیجہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری کی مہم میں حاملہ خواتین-اطفال سمیت ہم 40 کروڑ مفت ٹیکے سالانہ ملک کے شہریوں کو لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد کانگریس کی حکومت نے سائنسی تحقیقات کو فروغ دیا، وسیع پیمانے پر پھیلی اندھی عقیدت کو ختم کیا، قومی سطحی کئی ٹیکہ کاری کی مہم شروع کی۔ ٹیکہ کاری کے ذریعے سے 73 سال میں ملک نے ٹی بی، چیچک، پولیو، جذام، خسرہ، ٹِٹنیس، ڈپتھیریا، کالی کھانسی، ہیضہ، دماغی بخار اور ذہنی سوجن جیسی بیماریوں کو شکست دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next