اراکین پارلیمنٹ کی معطلی پر کانگریس کا احتجاج، کہا- ’ان ہتھکنڈوں سے ہماری آواز دبائی نہیں جا سکتی‘

کانگریس نے اراکین پارلیمنٹ کی معطلی اور راہل گاندھی کو بولنے سے روکے جانے پر سخت احتجاج کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت جمہوری روایت کو مجروح کر رہی ہے اور اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ ایکس / @INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان کانگریس نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کی معطلی اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو بولنے سے روکے جانے پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی نے اسے جمہوریت پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے پارلیمانی روایات کو پامال کر رہی ہے۔

کانگریس کے مطابق لوک سبھا میں جب راہل گاندھی نے ملک کی خارجہ پالیسی اور چین سے متعلق امور پر اظہار خیال کرنا چاہا تو برسراقتدار جماعت کے اراکین نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ ایوان چلا رہے کرشن پرساد تینیٹی سے قائد حزب اختلاف کو مکمل طور پر بولنے کا موقع نہیں دیا۔ اس صورت حال پر اعتراض ظاہر کرنے والے کانگریس اراکین کو پارلیمانی کارروائی سے معطل کر دیا گیا۔

کانگریس نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ پارلیمنٹ جمہوریت کا مندر ہے جہاں عوامی مسائل پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے لیکن موجودہ حکومت اس روایت کو کمزور کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کو ملک سے جڑے اہم سوالات اٹھانے نہیں دیے جا رہے اور جب کانگریس اس رویے کے خلاف آواز بلند کرتی ہے تو اس کے اراکین کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

گزشتہ روز اراکین کی معطلی کے بعد آج بھی کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کی سیڑھیوں اور مکر دوار کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر وزیر اعظم کے خلاف سخت نعرے درج تھے، جبکہ ’ناانصافی نہیں سہیں گے‘ اور ’تاناشاہی نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے بھی لگائے گئے۔ کانگریس نے کہا کہ یہ احتجاج عوامی آواز کی نمائندگی کرتا ہے اور وہ اس ناانصافی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔


اس معاملہ پر پرینکا گاندھی نے بھی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہر اجلاس میں اپوزیشن کے اراکین کو معطل کیا جا رہا ہے اور اب یہ کوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرز عمل جمہوری روایت کے خلاف ہے اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حکومت اپنی ذمہ داری سے بچ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ نعروں یا کاغذ اچھالنے کا نہیں بلکہ بنیادی طور پر اپوزیشن کی آواز کو خاموش کرنے کا ہے، جبکہ حکومت کو چاہیے کہ ایوان کے اندر سنجیدہ مکالمہ کو یقینی بنائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔