رویندر ناتھ ٹیگور کی 165ویں سالگرہ پر کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے خراج عقیدت پیش کیا
کھڑگے نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ایک بصیرت افروز انسان دوست، شاعر، فلسفی اور سماجی مصلح کے طور پر گرو دیو کے الفاظ نے ہندوستان کو اس کا قومی ترانہ عطا کیا اور نسلوں کو آزادی، وقار اور ہمدردی کی زبان دی۔‘‘

رویندر ناتھ ٹیگور ہندوستان کے عظیم شاعر، مصنف، فلسفی، موسیقار اور مصور تھے۔ ہندوستان کا قومی ترانہ ’جن گن من‘ اور بنگلہ دیش کا قومی ترانہ ’آمار سونار بنگلہ‘ ان کی ہی تخلیقات ہیں۔ ان کی 165 ویں سالگرہ کے موقع پر کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ملکارجن کھڑگے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’اس سے بدتر کوئی چیز نہیں کہ ایک طبقہ زبردستی اور لوگوں کی مرضی کے خلاف دوسرے طبقے کی رائے کو غلام بنا لے... گرو دیو رابندرناتھ ٹیگور کی سالگرہ پر انہیں عاجزانہ خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔‘‘
کانگریس کے قومی صدر اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایک بصیرت افروز انسان دوست، شاعر، فلسفی اور سماجی مصلح کے طور پر گرو دیو کے الفاظ نے ہندوستان کو اس کا قومی ترانہ عطا کیا اور نسلوں کو آزادی، وقار اور ہمدردی کی زبان دی۔ ان کی ترقی پسند فکر اور لازوال فن آج بھی ذہنوں کو روشن اور انسانیت کو متاثر کر رہا ہے۔‘‘
ملکارجن کھڑگے کے علاوہ کانگریس نے ابھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے رویندر ناتھ ٹیگور کی سالگرہ پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ کانگریس نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’گرو دیو رابندرناتھ ٹیگور جی کے یوم پیدائش پر انہیں بے شمار سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں، افکار اور انسانیت کے پیغام کے ذریعہ ہندوستان کی روح کو ایک نئی پہچان دی۔ ان کا ادب، حب الوطنی اور تعلیم کے تئیں لگن ہمیشہ ملک کے عوام کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ رویندر ناتھ ٹیگور کی پیدائش 7 مئی 1861 کو کولکاتہ (اس وقت کے کلکتہ) کے جوڑاسانکو ٹھاکر خاندان میں ہوئی تھی۔ وہ ایک خوشحال اور ثقافتی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے بچپن سے ہی ادب، موسیقی اور فن میں گہری دلچسپی دکھائی۔ انہوں نے کسی باقاعدہ تعلیم کے بغیر ہی خود مطالعہ کے ذریعہ مختلف علوم میں مہارت حاصل کی۔ ان کا انتقال 7 اگست 1941 کو ہوا۔ ان کی ادبی خدمات عالمی سطح پر مشہور ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں گیتانجلی، گورا، گھرے-بائرے، کابلی والا، چترا اور رکت کربی شامل ہیں۔ گیتانجلی کے لیے انہیں 1913 میں ادب کا نوبل انعام ملا۔ وہ ایشیا کی پہلی شخصیت تھے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ ان کی نظمیں انسانیت، فطرت اور روحانیت کی گہرائیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
