ایکسائز ڈیوٹی میں کمی پر کانگریس کا طنز، ’انتخابات کے سبب فیصلہ، 30 اپریل تک انتظار کریں‘
پٹرول-ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے اعلان پر کانگریس نے حکومت کو نشانہ بنایا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ یہ فیصلہ انتخابات سے جڑا ہے اور عوام کو 30 اپریل تک انتظار کرنا چاہیے

پٹرول اور ڈیزل پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے مرکزی حکومت کے فیصلے پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے انتخابی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ عوام کو 30 اپریل تک انتظار کرنا چاہیے، کیونکہ یہ اعلان اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ برسوں کے دوران کئی مواقع پر کمی آئی، اس وقت ملک میں صارفین کو اس کا فائدہ نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق موجودہ فیصلہ محض سیاسی مصلحت کے تحت لیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر مغربی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 29 اپریل کو دوسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہوگی، اس کے بعد ہی عوام کو کسی ممکنہ ریلیف کی امید رکھنی چاہیے۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی خام تیل کی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی کو کم کر کے تین روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے جبکہ ڈیزل پر اسے مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ملک کی بڑی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں جیسے ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ، بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور انڈین آئل کارپوریشن کو مالی دباؤ سے نکالنا بتایا گیا ہے۔
کانگریس کے میڈیا شعبے کے سربراہ پون کھیڑا نے بھی اس فیصلے کو لے کر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام یہ سمجھ رہے ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی ہوگی تو یہ غلط فہمی ہے، کیونکہ موجودہ سطح پر صارفین کے لیے قیمتوں میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ہے۔ ان کے مطابق دراصل جس ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے وہ وہی ’خصوصی اضافی ایکسائز‘ ہے جو تیل کمپنیاں حکومت کو ادا کرتی ہیں، اس لیے اس کا براہ راست فائدہ صارفین تک نہیں پہنچ رہا۔
پون کھیڑا نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بعد تیل کمپنیاں خسارے کا سامنا کر رہی تھیں اور حکومت نے تاخیر سے ہی سہی، لیکن اس بوجھ کا ایک حصہ بانٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ اس اقدام کو عوامی ریلیف کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، کیونکہ زمینی سطح پر صارفین کو کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔
کانگریس نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ عوام کو حقیقی راحت دینے کے بجائے محض سرخیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق اگر حکومت واقعی عوام کے مفاد میں قدم اٹھانا چاہتی ہے تو اسے ایندھن کی قیمتوں میں براہ راست کمی کرنی چاہیے تاکہ عام آدمی کو فوری فائدہ پہنچ سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔