کانگریس نے فارم-7 کے ذریعے ووٹر لسٹ سے لاکھوں نام حذف کیے جانے کا لگایا سنگین الزام، الیکشن کمیشن کو لکھا خط

کانگریس کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام ہٹانے کے لیے فارم-7 کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بار پہلے سے پرنٹ کیے گئے فارم بڑے پیمانے پر جمع کیے جا رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن آف انڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کئی ریاستوں میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے درمیان کانگریس نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے۔ اس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ فارم-7 کا غلط طریقے سے استعمال کر کے لاکھوں درست ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی عام غلطی نہیں بلکہ انتخابی فائدہ کے لیے ایک تنظیمی سازش ہے۔ پارٹی نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ اس کھیل میں سب سے زیادہ نشانہ ایس سی، ایس ٹی، اقلیت اور 60 سال سے اوپر کے بزرگوں کو بنایا جا رہا ہے۔ کانگریس کے مطابق کئی ریاستوں میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے ووٹرس کی پہچان کر کے ان کے نام کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو حکمراں جماعت کے خلاف ہو سکتے ہیں۔

کانگریس کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام ہٹانے کے لیے فارم-7 کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بار پہلے سے پرنٹ کیے گئے فارم بڑے پیمانے پر جمع کیے جا رہے ہیں۔ حیرانی والی بات یہ ہے کہ بہت سے اعتراض کرنے والوں کی شناخت واضح نہیں ہے۔ کہیں فرضی نام تو کہیں غلط شناختی کارڈ نمبر اور غلط موبائل نمبر دیے گئے ہیں۔ کچھ معاملوں میں ان لوگوں نے عوامی سطح پر بیانات دیے ہیں، جن کے نام سے اعتراضات درج کیے گئے تھے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کبھی کوئی فارم-7 بھر ہی نہیں۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی سے وابستہ بوتھ لیول ایجنٹ اس میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آسام، راجستھان، گجرات مدھیہ پردیش اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں سے ایسی ہزاروں شکایت ملی ہیں۔


کانگریس نے الیکشن کمیشن کو 1950 کے قانون کی یاد دلائی ہے۔ اس کے تحت ووٹر لسٹ میں غلط معلومات فراہم کرنا سزا کے دائرے میں آتا ہے۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ کمیشن فوری طور پر ان شکایات کی جانچ کرے، جن ووٹرس کے نام غلط طریقے سے ہٹائے گئے ہیں، انہیں فوری طور پر بحال کیا جائے۔ پارٹی نے کہا کہ اگر قصورواروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی تو یہ جمہوریت کے ساتھ بڑا کھلواڑ ہوگا۔ کانگریس نے اسے حق رائے دہی سے محروم کرنے کی ایک گہری سازش قرار دیا ہے۔ اب سب کی نگاہیں الیکشن کمیشن کی طرف مرکوز ہے کہ وہ ان سنگین الزامات پر کیا ایکشن لیتا ہے۔

راجستھان کانگریس کے ریاستی صدر گووند ڈوٹاسرا نے کہا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، اور کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال کے ساتھ ہماری اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں تنظیم، ایس آئی آر اور بی ایل اے کی تقرری کے متعلق بات چیت ہوئی۔ ہم نے منریگا منصوبہ کی بحالی کو لے کر ہوئی تحریک کے بارے میں بھی اعلیٰ قیادت کو جانکاری دی۔ ایس آئی آر عمل کے آخری مرحلوں میں بی جے پی نے جو دھاندلی کی، اس بارے میں بھی بات چیت ہوئی ہے کہ کیسے ہم نے بی جے پی کی بدمعاشی کو روکا۔ اس کے علاوہ آئندہ پنچایت، میونسپل انتخابات پر بھی بات چیت ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں پھر سے ہم اعلیٰ قیادت سے ملاقات کریں گے اعلیٰ قیادت کا پیغام ہے کہ عوامی مسائل اور حکومت کی طرف سے امتیازی سلوک کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں۔ ہم پنچایت انتخاب کے بعد ریاست میں دورہ کریں گے، نئے لوگوں کو شامل کریں گے اور تنظیم کو مضبوطی دیتے ہوئے اسمبلی انتخاب میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر حکومت بنائیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔