مسلم اکثریتی لکشدیپ کے خلاف سازش، راہل گاندھی نے پی ایم مودی کو لکھا خط

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے مرکز کے زیر انتظام لکشدیپ میں نئے ریگولیشن کے مسودہ کو لے کر پی ایم مودی کو خط لکھا اور اس معاملے میں مداخلت کی گزارش کی۔

راہل گاندھی، تصویر یو این آئی
راہل گاندھی، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

مرکز کے زیر انتظام علاقہ اور مسلم اکثریتی لکشدیپ کے تعلق سے نئے ریگولیشن کا مسودہ اس وقت موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ کئی سیاسی لیڈروں نے اسے لکشدیپ کے خلاف سازش ٹھہرایا ہے، اور اب کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی اس سلسلے میں پی ایم مودی کو خط لکھ کر مداخلت کی اپیل کی ہے۔ راہل گاندھی نے خط کے ذریعہ پی ایم مودی سے گزارش کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے یہ یقینی بنائیں کہ مرکز کے زیر انتظام اس علاقہ کے حاکم پرفل کھوڑا پٹیل کے احکام کو واپس لیا جائے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ پرفل کے ذریعہ منمانے ڈھنگ سے لیے گئے فیصلوں کی وجہ سے اور ان کی عوام مخالف پالیسیوں کے سبب لکشدیپ کے لوگوں کے مستقبل کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے لکشدیپ میں احتجاجی مظاہروں کا تذکرہ کرتے ہوئے خط میں لکھا کہ ’’لکشدیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن کا مسودہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے لکشدیپ کی ایکولوجیکل پیوریٹی (ماحولیاتی شفافیت) کو کمتر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘


راہل گاندھی نے اپنے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ اس مسودہ میں موجود باتیں لکشدیپ میں اراضی ملکیت سے متعلق سیکورٹی کو کمزور کرتے ہیں، کچھ یقینی سرگرمیوں کے لیے ماحولیاتی ریگولیشن کو کمتر کرتے ہیں اور متاثرہ لوگوں کے لیے قانونی راستوں کو محدود کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کچھ قلیل مدتی کمرشیل فائدوں کے لیے لکشدیپ میں روزی روٹی کی سیکورٹی اور ترقی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے پنچایت ریگولیشن کے مسودہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دو سے زیادہ بچوں والے والدین کو نااہل ٹھہرانے کا انتظام پوری طرح سے جمہوریت مخالف ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔