سبھی دستاویزات ہونے کے باوجود ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے پورے کنبہ کا نام غائب، کانگریس لیڈر گردیپ سپل حیران
گردیپ سپل نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اتر پردیش کی ڈرافٹ ایس آئی آر ووٹر لسٹ میں ان کا اور ان کے کنبہ کا نام غائب ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس سارے کاغذات موجود ہیں۔

الیکشن کمیشن نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کا مسودہ 6 جنوری کو جاری کر دیا۔ پہلے کے مقابلہ اس اس لسٹ میں 2.89 کروڑ نام کم ہو گئے ہیں، یعنی تقریباً 3 کروڑ نام ایس آئی آر کے بعد حذف کیے گئے ہیں۔ اس درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر گردیپ سنگھ سپل نے ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر سوال کھڑے کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا اور ان کے کنبہ کے اراکین کے نام شامل ہی نہیں کیے گئے ہیں۔
گردیپ سپّل نے اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ شیئر کیا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اتر پردیش کی ڈرافٹ ایس آئی آر ووٹر لسٹ سے ان کا اور ان کے کنبہ کا نام غائب ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس سبھی کاغذات موجود ہیں اور 2003 کی ووٹر لسٹ میں بھی ان کے نام تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارا نام صرف اس بنیاد پر کاٹ دیا گیا ہے کہ انھوں نے اپنا نام صاحب آباد اسمبلی حلقہ سے نوئیڈا اسمبلی حلقہ میں منتقل کرایا تھا۔‘‘
گردیپ سپّل اپنی پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’اتر پردیش کی ایس آئی آر مسودہ لسٹ شائع ہو گئی ہے۔ اس میں میرا اور میرے کنبہ کا نام غائب ہے، جبکہ ہمارے نام 2003 کے ووٹر لسٹ میں شامل تھے، ہمارے نام گزشتہ انتخاب کی ووٹر لسٹ میں بھی شامل تھے اور ہمارے والدین کے نام بھی 2003 کی ووٹر لسٹ میں شامل تھے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہم نے الیکشن کمیشن کے اصولوں کے مطابق ضروری دستاویزات بھی جمع کر دیے تھے۔ ہمارے پاس پاسپورٹ، پیدائش سرٹیفکیٹ، آدھار، بینک اکاؤنٹ، پراپرٹی کے کاغذات، دسویں کے سرٹیفکیٹ، سب کچھ ہے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’میں تو خود ہندوستان کے نائب صدر (حامد انصاری) کے ساتھ اور راجیہ سبھا سکریٹریٹ میں جوائنٹ سکریٹری بھی تھا۔‘‘
سپل کا کہنا ہے کہ اگر کسی ووٹر نے اپنا گھر کسی نئے علاقہ میں بدل لیا ہے، تو اس کا نام کاٹ دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میرے جیسے کروڑوں حقیقی ووٹرس ہیں، جن کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے ہیں۔‘‘ انھوں نے سوال کہا کہ ’’میں تو شاید پھر بھی نیا فارم 6 بھر کر اپنے نام جڑوا لوں گا، لیکن کتنے لوگ ایسا کر پائیں گے؟‘‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’’میں ایس آئی آر اور دیگر ایشوز پر الیکشن کمیشن سے ملاقات کرنے والے کانگریس نمائندہ وفد کا حصہ کئی بار رہا ہوں، اور یہ سب بی ایل او بھی جانتے ہیں، لیکن پھر بھی ہمارے نام مسودہ لسٹ سے کٹ گئے۔‘‘ انھوں نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ ایس آئی آر میں ایک حلقہ سے دوسرے حلقہ منتقل ہوئے ووٹرس کا نام برقرارا رکھنے کی کوئی سہولت نہیں ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔