نجی اسکولوں کے 2 لاکھ طلبا سرکاری اسکولوں میں داخلے کے خواہاں! کیجریوال کے دعوے کو اجے ماکن نے جھوٹا قرار دیا

عام آدمی پارٹی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نجی اسکولوں کے 2 لاکھ طلبا دہلی کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس دعوے کو کانگریس لیڈر اجے ماکن نے جھوٹا قرار دیا ہے

اجے ماکن، تصویر آئی اے این ایس
اجے ماکن، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی میں برسراقتدار عام آدمی پارٹی کی اروند کیجریوال کی قیادت والی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ دہلی میں والدین اپنے بچوں کو اب نجی اسکولوں کے بجائے سرکاری اسکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نجی اسکولوں کے 2 لاکھ طلبا سرکاری اسکولوں میں داخلہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دہلی حکومت کے اس دعوے پر کانگریس کے جنرل سکریٹری اجے ماکن نے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیجروال جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔ ان کو سچائی بیان کرنی چاہئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کیجریوال نے ایک فرضی خبر کو ٹوئٹ کر کے یہ دعوی کیا ہے۔ اجے ماکن نے اس سلسلہ میں یکے بعد دیگرے کئی ٹوئٹ کئے اور ساتھ میں خبر کا اسکرین شاٹ اور گراف بھی پیش کیا۔


اجے ماکن نے ٹوئٹ میں لکھا، کیجریوال جی نے کہا کہ ملک میں پہلی بار ایسا ہواـ اور ایک فرضی خبر ٹوئٹ کر دی، جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں نجی اسکولوں کے 2 لاکھ سے زیادہ طلبا نے اپنا اندراج دہلی کے سرکاری اسکولوں میں کرا لیا ہے۔ اجے ماکن نے کیجریوال سے پوچھا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ 2013 سے قبل سرکاری اسکولوں میں بچوں کی تعداد ہر سال بڑھ جاتی تھی۔ جبکہ عآپ کے آنے کے بعد بچے نجی اسکولوں میں ہجرت کر گئے؟‘‘

انہوں نے بتایا کہ سال 2013 میں سرکاری اسکولوں میں 17.75 لاکھ طلبا تھے جبکہ 2018-19 میں یہ تعداد 16.47 لاکھ رہ گئی۔ جبکہ 2013 میں نجی اسکولوں میں 13.57 لاکھ بچے تھے جبکہ 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 16.61 لاکھ ہو گئی۔


اجے ماکن نے آخر میں ٹوئٹ کیا، ’’کیجریوال جی، ہے کوئی جواب؟ 2013 سے 2019 تک، سرکاری اسکولوں میں گھٹے 1.28 لاکھ بچے اور پرائیویٹ اسکولوں میں بڑھے 3.04 لاکھ بچے! یہی ہے آپ کا تعلیم کا ماڈل؟‘‘ اجے ماکن نے اس کے ساتھ ہی لکھا کہ وہ عام آدمی پارٹی کے تعلیمی ماڈل کی پول کھولتے رہیں گے اور اس سلسلہ کی اگلی کڑی آج یعنی منگل کی شام کو جاری کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔