’تنظیم تشکیل مہم‘ کے تحت کانگریس زمینی سطح پر مضبوط ہو رہی: دیویندر یادو

دیویندر یادو نے کہا کہ ’’آئندہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے ضمنی انتخاب کے لیے کانگریس پوری طرح سے تیار ہے اور خالی پڑے تمام وارڈوں میں کانگریس کارکنان پوری طاقت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>’تنظیم تشکیل مہم‘ کی میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کانگریس ریاستی صدر دیویندر یادو</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس کے پردیش ریاستی دفتر راجیو بھون میں 21 جون کو ’تنظیم تشکیل مہم‘ کے تحت ایک میٹنگ کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کی۔ میٹنگ میں بنیادی طور پر بلاکوں کے تحت منڈل اور سیکٹر کی تشکیل اور آئندہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے ضمنی انتخاب کے متعلق تفصیلی طور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ’تنظیم تشکیل مہم‘ کے تحت منعقد میٹنگ میں دہلی ریاستی صدر دیویندر یادو کے علاوہ اے آئی سی سی کے سکریٹری انچارج سکھویندر سنگھ ڈینی، دہلی حکومت کے سابق وزیر ڈاکٹر نریندر ناتھ، کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور سابق رکن اسمبلی انل بھاردواج، سابق رکن اسمبلی ہری شنکر گپتا سمیت تمام ضلعی صدور، لوک سبھا اور ضلعی مبصرین بھی موجود تھے۔

’تنظیم تشکیل مہم‘ کے تحت کانگریس زمینی سطح پر مضبوط ہو رہی: دیویندر یادو

اس موقع پر دیویندر یادو نے کہا کہ لوک سبھا و ضلعی مبصرین اور ضلعی صدور کو بلاک کانگریس کمیٹیوں کے تحت منڈل اور سیکٹر کی تشکیل کا جو کام سونپا گیا تھا وہ 90 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے اور جلد ہی منڈل اور سیکٹر کی تشکیل کا کام 100 فیصد تک مکمل کر لیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لوک سبھا و ضلعی مبصرین کا بلاک صدور کے ساتھ بوتھ لیول پر کام کرنا قابل ستائش عمل ہے، یہی وجہ ہے کہ منڈل اور سیکٹر کی تشکیل کا کام مکمل ہو سکا ہے۔ ساتھ ہی بوتھ کی سطح تک لوگوں سے مل کر منڈل اور سیکٹر کے صدر کی تقرری سے تنظیم زمینی سطح پر کافی مضبوط ہو رہا ہے۔


دہلی کانگریس صدر نے مزید کہا کہ آئندہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے ضمنی انتخاب کے لیے کانگریس پوری طرح سے تیار ہے اور خالی پڑے تمام وارڈوں میں کانگریس کارکنان پوری طاقت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہمارے لوک سبھا و ضلعی مبصرین کے ساتھ بلاک صدور، منڈل اور سیکٹر کے صدور تمام وارڈوں میں بی جے پی حکومت کی اب تک کی ناکامیوں اور عام آدمی پارٹی کی بدعنوانی کے حوالے سے عوام کے درمیان اپنی بات رکھ رہے ہیں۔

دوسری طرف دیویندر یادو نے کہا کہ بدعنوان عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیر تعلیم منیش سسودیا افسران پر الزام عائد کر 12748 کلاس روم کی تعمیر کے 2000 کروڑ کے گھوٹالے میں ہوئے بدعنوانی سے نہیں بچ سکتے۔ کیونکہ اے سی بی کے 37 سوالوں پر سسودیا اپنی جوابدہی اور ذمہ داری سے بچنے کے لیے سرکاری افسران کو کلاس روم کی تعمیر کا قصوروار قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’’تمام طرح کی تعمیرات کی منظوری افسروں نے دی تھی۔‘‘


کانگریس دہلی صدر نے کہا کہ سسودیا یہ بھول گئے ہیں کہ حتمی منظوری وزیر کے دستخط کے بعد دی جاتی ہے اور اس وقت منیش سسودیا فنانس کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے اور ان کی رضامندی سے کلاس روم کی تعمیر کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کیا گیا تھا۔ دیویندر یادو نے مزید کہا کہ منیش سسودیا جو شراب گھوٹالہ میں بدعنوانی کے معاملے میں جیل سے ضمانت پر باہر ہیں، وہ شراب گھوٹالہ کے ساتھ ساتھ کلاس روم گھوٹالہ کے الزامات سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ستیندر جین کے ذریعہ اے سی بی کو دیے گئے جواب سے متعلق پوچھے گئے سوالات پر سسودیا نے بالکل خاموشی اختیار کر لی، سوالوں پر خاموشی اختیار کر کے سسودیا اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر سکتے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔