’دی ٹیلی گراف‘ کے سابق مدیر راجاگوپال کو پاسپورٹ ملنے پر کانگریس کا اظہارِ خوشی، ایس آئی آر سے پیدا ہوئی تھی مشکل
راجاگوپال نے کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال کو ایک خط لکھا ہے جس میں اپنے پاسپورٹ کی تجدید سے متعلق درپیش مشکل دور میں ملنے والی حمایت اور حوصلہ افزائی پر دلی تشکر کا اظہار کیا ہے۔

’دی ٹیلی گراف‘ کے سابق مدیر آر. راجاگوپال کو کافی جدوجہد کے بعد آخر کار پاسپورٹ مل ہی گیا۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران ان کا نام ووٹر لسٹ سے کٹ گیا تھا، جس کی وجہ سے پاسپورٹ رینیو کرانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا پاسپورٹ رینیو نہیں ہو رہا تھا، جس کے بعد کانگریس کے علاوہ کئی دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے ان کی حمایت میں آواز اٹھائی تھی۔ کانگریس کے کئی لیڈران نے باضابطہ راجاگوپال سے ملاقات کر ان کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ اب جبکہ راجاگوپال کو پاسپورٹ مل گیا ہے تو انھوں نے کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال کو ایک خط لکھا ہے، جس میں اپنے پاسپورٹ کی تجدید سے متعلق درپیش مشکل دور میں ملنے والی حمایت اور حوصلہ افزائی پر دلی تشکر کا اظہار کیا ہے۔
اس خط کو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے اور ساتھ میں لکھا ہے کہ ’’یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ’دی ٹیلی گراف‘ کے سابق مدیر آر. راجا گوپال کو طویل جدوجہد اور ملک گیر عوامی غم و غصہ کے بعد آخرکار پاسپورٹ مل گیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال کی قیادت میں پارٹی کے ایک وفد نے، جس میں مغربی بنگال کے انچارج غلام احمد میر، کیرالہ کی انچارج دیپا داس منشی اور مغربی بنگال پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر شبھنکر سرکار شامل تھے، حال ہی میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی ہدایت پر آر. راجاگوپال سے ملاقات کی تھی تاکہ ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔‘‘
کانگریس نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں ناانصافی اور غیر منصفانہ رویہ کے خلاف ہمیشہ کھڑے رہنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’آر. راجا گوپال کی جانب سے ہماری حمایت کے اعتراف میں بھیجا گیا ان کا شائستہ خط واقعی حوصلہ افزا ہے۔ یہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ ناانصافی اور غیر منصفانہ رویہ کے خلاف مضبوطی سے کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی اسی طرح کھڑی رہے گی۔‘‘
رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال کو تحریر کردہ خط میں راجاگوپال لکھتے ہیں کہ ’’میں اپنے پاسپورٹ کی تجدید کے سلسلے میں درپیش مشکلات والے وقت کے دوران آپ کی جانب سے ملنے والی حمایت اور حوصلہ افزائی پر دلی تشکر کا اظہار کرنے کے لیے یہ خط لکھ رہا ہوں۔ اس معاملہ نے مجھے شدید ذہنی اضطراب اور غیر یقینی کیفیت سے دوچار کر دیا تھا۔ آپ کی مداخلت نے مجھے یہ اعتماد دیا کہ اس معاملے کی منصفانہ سماعت ہوگی اور قانونی عمل غالب رہے گا۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اب یہ معاملہ حل ہو گیا ہے اور مجھے میرا پاسپورٹ مل گیا ہے۔ اس کے لیے میں تہہ دل سے آپ کا شکر گزار ہوں۔‘‘
اس خط میں وہ دیگر کانگریس لیڈران کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’میں خاص طور پر اس بات کے لیے بھی ممنون ہوں کہ آپ نے دیپا داس منشی، شبھنکر سرکار اور غلام احمد میر کے ساتھ میرے گھر آ کر مجھ سے ملاقات کی۔ آپ کی اس آمد نے اس وقت کولکاتا میں میرے خاندان اور مجھے اپنے تحفظ کے حوالے سے اعتماد دلایا، جب اچانک عوامی توجہ ہماری جانب مبذول ہونے کے باعث ہم خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے۔‘‘ راہل گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’میں اس بات سے بھی بے حد متاثر ہوا کہ آپ نے راہل گاندھی کی نیک تمناؤں سے بھی ہمیں آگاہ کیا۔ براہ کرم میری جانب سے ان کا بھی ان کی فکر مندی اور مہربانی پر مخلصانہ شکریہ ادا کیجیے۔ میں پون کھیڑا، سپریا شرینیت اور دیگر کئی لیڈران کا بھی بے حد شکر گزار ہوں، جنہوں نے اپنی ذاتی پہل پر میرا معاملہ سوشل میڈیا پر اٹھایا اور اسے وسیع عوامی توجہ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘‘
اپنے مشکل وقت کو یاد کرتے ہوئے راجاگوپال لکھتے ہیں کہ ’’کسی بھی ایسے شہری کے لیے، جسے اچانک کسی انتظامی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے، یہ جاننا نہایت اطمینان بخش ہوتا ہے کہ عوامی نمائندے ہمدردی کے ساتھ اس کی بات سننے اور انسانیت کے جذبے کے ساتھ اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپ کی حمایت نے میرے اس یقین کو مزید مضبوط کیا ہے کہ ہمدردی اور آئینی اقدار اب بھی ہماری عوامی زندگی کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ اگرچہ میں خوش قسمت ہوں کہ میری اپنی آزمائش خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئی، لیکن لاکھوں شہری آج بھی خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کے عمل اور ووٹر لسٹ سے ان کے نام حذف کیے جانے کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’مجھے پوری امید ہے آپ میرے ذاتی معاملے کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان بے شمار لوگوں کی جانب سے، جن کی آوازیں شاذ و نادر ہی سنی جاتی ہیں، ان مسائل کو پارلیمنٹ اور دیگر تمام مناسب قومی فورمز پر پوری قوت کے ساتھ اٹھاتے رہیں گے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ حکومت ہند کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ ’ایس آئی آر‘ کے عمل سے متعلق پالیسی کے گرد موجود ابہام اور الجھن کو فوری طور پر دور کرنا ضروری ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
