دہلی آڈٹ میں 100 سے زائد غلط اندراجات، کانگریس کا ایس آئی آر روکنے اور اہل ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ
کانگریس نے ایس آئی آر فوری روکنے اور اہل ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ تازہ بیان میں دہلی کے دو بوتھوں کے آڈٹ کا حوالہ دیا گیا، جہاں 100 سے زائد ووٹر اے ایس ڈی ڈی میں غلط درج تھے

دہلی کے دو پولنگ بوتھوں کے سات روزہ شہری آڈٹ میں 258 گھروں کا جائزہ لیا گیا اور 100 سے زائد ووٹر اے ایس ڈی ڈی زمروں میں غلط درج پائے گئے۔ بٹلہ ہاؤس کی عوامی سماعت میں 150 سے زیادہ افراد نے معاملات پیش کرنے کے لیے اندراج کرایا۔
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ایکس پر اپنی 13 اکتوبر کی پوسٹ کو تازہ بیان کے ساتھ ری پوسٹ کیا۔ پرانی پوسٹ میں انہوں نے اے ایس ڈی ڈی کو ’طبی عارضے‘ جیسی اصطلاح کہا۔ ان کے مطابق، فوت شدہ اور دہرے اندراج والے نام حذف شدہ ناموں کا بالترتیب 20 اور 8 فیصد تھے، جبکہ غیر حاضر، منتقل اور دیگر زمروں میں دس کروڑ سے زائد اہل ووٹر خارج ہوئے۔ اس پوسٹ میں انہوں نے ایک روزنامے کے وضاحتی مضمون کا حوالہ بھی دیا۔
رمیش نے پرانی پوسٹ میں اعتراض کیا تھا کہ ایس آئی آر منتقل ہونے والوں کو خارج کرتا، ثبوت کا بوجھ ووٹروں پر ڈالتا اور ناقص سافٹ ویئر پر انحصار کرتا ہے، جبکہ فارم 7 کے ذریعے ناموں کے غلط اخراج کا امکان ہے۔ انہوں نے یہ عمل روکنے اور اہل ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
تازہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کے تحت حذف شدہ ناموں کی بڑی تعداد اے ایس ڈی ڈی میں ہے، جسے بی جے پی اور اس کے غیررسمی ترجمان فہرستوں کی ’صفائی‘ قرار دیتے ہیں۔ رمیش نے دہلی کے آڈٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ دو بوتھوں میں 100 سے زائد ووٹر غلط درج ہوئے، بیشتر غیر حاضر یا منتقل۔ ان کے مطابق ملک بھر میں صرف ان زمروں میں نو کروڑ سے زیادہ نام حذف ہوئے؛ انہوں نے پوچھا کہ کتنے حقیقی ووٹر متاثر ہوئے۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق آڈٹ اوکھلا کے بوتھ 61 اور 65 میں جن سرکار، ایم کے ایس ایس، ووٹر ادھیکار منچ اور نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن نے کیا۔ سماعت بٹلہ ہاؤس کے جی اور کے بلاکس کے لیے تھی۔ اوکھلا میں دہلی کی دوسری بلند ترین حذف شدگی شرح تھی۔ متاثرین میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریٹائرڈ پروفیسر فیاض احمد، 74، بھی تھے؛ پانچ دہائیوں سے اسی پتے پر رہنے کے باوجود انہیں غیر حاضر اور اہلیہ کو مستقل منتقل درج کیا گیا۔
دہلی کے انتخابی دفتر نے خصوصی کیمپوں اور اے ایس ڈی ڈی اندراجات کی گھر گھر تصدیق کی ہدایت دی ہے۔ پھر بھی سماعت میں تقریباً 20 افراد نے کہا کہ انہیں کیمپوں کا علم نہیں تھا؛ بعض کو اپنے بوتھ لیول افسر کا پتا نہیں تھا اور کچھ کے مطابق افسر نے رابطہ نہیں کیا۔ منتظمین کے مطابق 110 سے زیادہ افراد فارم 6 لے گئے۔
رمیش نے تازہ بیان میں ایس آئی آر کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دے کر فوری روکنے اور اہل ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ 30 اکتوبر تک موصول درخواستیں 4 دسمبر کو شائع ہونے والی حتمی فہرست کے لیے زیر غور آئیں گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
