مدھیہ پردیش میں زمین گھوٹالہ پر ہنگامہ، کانگریس کا وزیر اعلیٰ موہن یادو سے استعفے اور عدالتی جانچ کا مطالبہ
مدھیہ پردیش میں وزیر اعلیٰ موہن یادو کے خاندان کی جانب سے زمین خریداری سے متعلق خبروں کے بعد کانگریس نے عدالتی جانچ اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے معاملے کو بدعنوانی سے جوڑا ہے
بھوپال: مدھیہ پردیش کے اجین میں زمین گھوٹالہ سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کے بعد ریاست کی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ کانگریس نے وزیر اعلیٰ موہن یادو پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
پردیش کانگریس صدر جیتو پٹواری نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ انکشافات مدھیہ پردیش کے لیے باعث تشویش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اجین، جو مذہبی اہمیت کا حامل شہر ہے، وہاں زمینوں کی خرید و فروخت سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹوں نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے خاندان اور متعلقہ کمپنیوں نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بڑی تعداد میں زمینیں خریدی ہیں تو اس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔
جیتو پٹواری نے دعویٰ کیا کہ میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق دسمبر 2023 کے بعد موہن یادو کے خاندان اور ان کی جائیداد سے وابستہ کمپنیوں نے اجین میں متعدد پلاٹ خریدے، جن کا رقبہ سیکڑوں ایکڑ پر مشتمل بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان میں سے کئی زمینیں ان علاقوں میں واقع ہیں جہاں حکومت کی مجوزہ ترقیاتی اسکیمیں اور زمین کے استعمال میں تبدیلی کے منصوبے موجود ہیں۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ اخلاقی بنیادوں پر وزیر اعلیٰ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے تاکہ غیر جانبدارانہ جانچ ممکن ہو سکے۔
ریاستی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف امنگ سنگھار نے کہا کہ یہ محض الزامات نہیں بلکہ ایسے معاملات ہیں جنہیں پہلے بھی اسمبلی میں اٹھایا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے جانچ کا یقین دلانے کے باوجود اب تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب "موہن یادو فائلز" کے نام سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور اگر ریاست کا سربراہ ہی بدعنوانی کے الزامات میں گھر جائے تو اس کے اثرات پوری حکومت پر پڑتے ہیں۔
کانگریس رہنما مکیش نائک نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برسوں میں موہن یادو اور ان سے وابستہ افراد کی جائیدادوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی تفصیلات تشویش پیدا کرتی ہیں۔
کانگریس کے رکن پارلیمان تنوج پونیا نے بھی مطالبہ کیا کہ اگر کسی عوامی عہدے دار پر سنگین الزامات سامنے آئیں تو غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے اسے اپنے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے تاکہ تحقیقات پر کسی قسم کا اثر نہ پڑے۔ واضح رہے کہ یہ تمام الزامات کانگریس رہنماؤں کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اور وزیر اعلیٰ موہن یادو یا ریاستی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں تازہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
