کانگریس نے کیا صدر جمہوریہ سے امت شاہ کو بر طرف کرنے کا مطالبہ

صدر جمہوریہ کے ساتھ ملاقات کے بعد سونیا گاندھی نے صحافیوں سے کہا کہ مرکزی حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوئی ہے لہٰذا وزیر داخلہ امت شاہ کو عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس کے ایک وفد نے دہلی فسادات کے سلسلے میں جمعرات کو صدر کووند سے ملاقات کی اور مرکزی وزیر داخلہ کو عہدے سے بر طرف کرنے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

کانگریس صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں پارٹی کے ایک وفد نے یہاں راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کرکے دہلی فسادات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ وفد نے صدر جمہوریہ کو ایک میمورنڈم بھی سونپا، جس میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت عوامی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے اس لیے امت شاہ کو مرکزی وزیر داخلہ کے عہدے سے برخواست کیا جانا چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

وفد میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے رہنما غلام نبی آزاد، راجیہ سبھا میں ڈپٹی اپوزیشن رہنما آنند شرما اور پارٹی کے سینیئر رہنما پی چدمبرم، احمد پٹیل، اے کے انٹنی، ملکارجن کھڑگے، رندیپ سنگھ سرجے والا اور دیگر رہنما شامل تھے۔ صدر جمہوریہ کے ساتھ ملاقات کے بعد سونیا گاندھی نے صحافیوں سے کہا کہ مرکزی حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوئی ہے لہٰذا وزیر داخلہ کو عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔

کانگریس نے میمورنڈم میں کہا کہ قومی دارالحکومت نئی دہلی میں مسلسل فسادات ہورہے ہیں اور مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ آئینی ذمہ داری کو پورا نہیں کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت اور دہلی کے نومنتخب ریاستی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے اور خاموش تماشائی بنی رہی جس کی وجہ سے سوچی سمجھی سازش کے تحت فسادات اور لوٹ پاٹ جاری رہا۔ عوامی اور نجی جائداد کا کافی نقصان ہوا۔

مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ کی بے اثری کے سبب کم ازکم 34 افراد کی موت ہوگئی اوور 200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے لیے دہلی کے وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ اور مرکزی حکومت کو ذمہ دار مانا جانا چاہیے۔ دہلی میں فساد کے اس وسیع تشدد کو بھانپنے میں خفیہ ایجنسیاں پوری طرح سے ناکام رہیں۔ علاوہ ازیں جو بھی اس سلسلے میں اطلاعات ملی تھیں ان کی بنیاد پر بھی تیاری نہیں کی گئی۔ پولیس دستوں کی تعیناتی میں تاخیر بھی کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ مکمل صورتحال کے پیش نظر وزیر داخلہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اس لیے انھیں علیٰ الفور عہدے سے برطرف کیا جانا چاہیے۔ میمورنڈم کے مطابق سماج میں نفرت اور تقسیم کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے جو تشویش کا باعث ہے۔

Published: 27 Feb 2020, 4:30 PM